LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی ٹرمپ کے تعاون سے ایران کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا

کولیسٹرول کم کرنے والی ٹیکنالوجی سے متعلق اہم انکشاف!

Web Desk

5 August 2026

جرمنی کی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈریسڈن میں کی جانے والی ایک جدید طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خون سے کولیسٹرول کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایفیریسس (Apheresis) ٹیکنالوجی جسم میں موجود ضدی زہریلے ’فورایور کیمیکلز‘ اور مائیکرو پلاسٹکس کو خارج کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ایفیریسس مشینیں ایسے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جن کے خون میں کولیسٹرول کی سطح عام ادویات سے قابو میں نہیں آتی، جس کے تحت ایک بازو سے خون نکال کر اس میں موجود اضافی چکنائی کو فلٹر کرنے کے بعد دوسرے بازو کے ذریعے دوبارہ جسم میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ڈریسڈن کے سب سے بڑے ایفیریسس سینٹر میں، جہاں سالانہ تقریباً 10 ہزار علاج کیے جاتے ہیں، سائنس دانوں نے استعمال شدہ فلٹر بیگز کا تجزیہ کر کے یہ اہم دریافت کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید تصدیقی مراحل کے بعد یہ ٹیکنالوجی ماحول سے انسانوں کے اندر منتقل ہونے والی آلودگی کے خاتمے میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہوگی۔