LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال اسماء جتک کو دھمکیوں اور اہل خانہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے اہم فیچر متعارف

کولیسٹرول کم کرنے والی ٹیکنالوجی سے متعلق اہم انکشاف!

Web Desk

5 August 2026

جرمنی کی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈریسڈن میں کی جانے والی ایک جدید طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خون سے کولیسٹرول کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایفیریسس (Apheresis) ٹیکنالوجی جسم میں موجود ضدی زہریلے ’فورایور کیمیکلز‘ اور مائیکرو پلاسٹکس کو خارج کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ایفیریسس مشینیں ایسے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جن کے خون میں کولیسٹرول کی سطح عام ادویات سے قابو میں نہیں آتی، جس کے تحت ایک بازو سے خون نکال کر اس میں موجود اضافی چکنائی کو فلٹر کرنے کے بعد دوسرے بازو کے ذریعے دوبارہ جسم میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ڈریسڈن کے سب سے بڑے ایفیریسس سینٹر میں، جہاں سالانہ تقریباً 10 ہزار علاج کیے جاتے ہیں، سائنس دانوں نے استعمال شدہ فلٹر بیگز کا تجزیہ کر کے یہ اہم دریافت کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید تصدیقی مراحل کے بعد یہ ٹیکنالوجی ماحول سے انسانوں کے اندر منتقل ہونے والی آلودگی کے خاتمے میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہوگی۔