LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ اسحاق ڈار کا عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے: شہباز شریف سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ

دانتوں میں کیڑا روکنے کا آسان علاج دریافت

Web Desk

1 August 2026

سائنس دانوں نے دانتوں کے علاج کی دنیا میں ایک انقلابی اور آسان طریقہ دریافت کر لیا ہے، جس کے تحت بغیر کسی ڈرلنگ یا انجیکشن کے محض چند سیکنڈز کے اندر دانتوں کو کیڑا لگنے سے روکا جا سکتا ہے۔

امریکا میں ہونے والی ایک بڑی اور جامع تحقیق کے مطابق ’سلور ڈائی امائن فلورائیڈ‘ (Silver Diamine Fluoride) نامی محلول نے بچوں کے دودھ کے دانتوں کی خرابی کو نصف سے زائد کیسز میں کامیابی سے روک دیا ہے۔ یہ محلول چھوٹے بچوں کو درد، شدید انفیکشنز اور مہنگی سرجری کے مراحل سے بچانے میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سلور ڈائی امائن فلورائیڈ، جسے مختصراً ‘SDF’ کہا جاتا ہے، روایتی علاج کے مقابلے میں ایک سستا، بے درد اور انتہائی آسان متبادل ہے۔ ڈینٹسٹ اس محلول کو ایک چھوٹے اسپنج نما آلے سے براہِ راست دانت کے متاثرہ حصے پر لگاتے ہیں، اور اس پورے عمل میں فی دانت صرف چند سیکنڈ کا وقت لگتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس علاج میں نہ تو ڈرلنگ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی مریض کو کوئی درد کُش انجیکشن یا بے ہوشی کی دوا دی جاتی ہے۔

تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ اس محلول کے استعمال سے دانت کا خراب یا متاثرہ حصہ مستقل طور پر سیاہ ہو جاتا ہے، تاہم یہ بچوں کو بالخصوص اور مریضوں کو بالعموم ان پیچیدگیوں سے بچاتا ہے جہاں اسپتال کے عام علاج میں ناکامی کے بعد انہیں مکمل بے ہوشی کی حالت میں تکلیف دہ سرجری کروانی پڑتی ہے۔