LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

دانتوں میں کیڑا روکنے کا آسان علاج دریافت

Web Desk

1 August 2026

سائنس دانوں نے دانتوں کے علاج کی دنیا میں ایک انقلابی اور آسان طریقہ دریافت کر لیا ہے، جس کے تحت بغیر کسی ڈرلنگ یا انجیکشن کے محض چند سیکنڈز کے اندر دانتوں کو کیڑا لگنے سے روکا جا سکتا ہے۔

امریکا میں ہونے والی ایک بڑی اور جامع تحقیق کے مطابق ’سلور ڈائی امائن فلورائیڈ‘ (Silver Diamine Fluoride) نامی محلول نے بچوں کے دودھ کے دانتوں کی خرابی کو نصف سے زائد کیسز میں کامیابی سے روک دیا ہے۔ یہ محلول چھوٹے بچوں کو درد، شدید انفیکشنز اور مہنگی سرجری کے مراحل سے بچانے میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سلور ڈائی امائن فلورائیڈ، جسے مختصراً ‘SDF’ کہا جاتا ہے، روایتی علاج کے مقابلے میں ایک سستا، بے درد اور انتہائی آسان متبادل ہے۔ ڈینٹسٹ اس محلول کو ایک چھوٹے اسپنج نما آلے سے براہِ راست دانت کے متاثرہ حصے پر لگاتے ہیں، اور اس پورے عمل میں فی دانت صرف چند سیکنڈ کا وقت لگتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس علاج میں نہ تو ڈرلنگ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی مریض کو کوئی درد کُش انجیکشن یا بے ہوشی کی دوا دی جاتی ہے۔

تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ اس محلول کے استعمال سے دانت کا خراب یا متاثرہ حصہ مستقل طور پر سیاہ ہو جاتا ہے، تاہم یہ بچوں کو بالخصوص اور مریضوں کو بالعموم ان پیچیدگیوں سے بچاتا ہے جہاں اسپتال کے عام علاج میں ناکامی کے بعد انہیں مکمل بے ہوشی کی حالت میں تکلیف دہ سرجری کروانی پڑتی ہے۔