خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ
Web Desk
3 August 2026
مصنوعی ذہانت (AI) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر ایلون مسک اور جیف بیزوس سمیت دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اسپیس ایکس (SpaceX) اور بلیو اوریجن (Blue Origin) جیسی کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ نچلے مدار میں ڈیٹا سینٹرز کی منتقلی سے شمسی توانائی کے ذریعے بے پناہ بجلی حاصل کی جا سکے گی اور زمین پر توانائی کے دباؤ اور حرارت میں کمی آئے گی۔ تاہم، ماہرینِ ماحولیات اور ‘ارتھ جسٹس’ کے سائنسدانوں نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) میں درخواست دائر کرتے ہوئے ان منصوبوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ لاکھوں مصنوعی سیاروں اور راکٹ لانچز میں اضافے سے اوزون کی تہہ کو شدید نقصان، خلائی ملبے میں اضافہ، رات کے آسمان کی قدرتی شکل کی تبدیلی اور جنگلی حیات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے جامع جائزہ لیے بغیر لائسنس جاری نہ کیے جائیں۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026