LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا نے فلائی بغداد ایئر لائن کو پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیا امریکی و برطانوی وزرائے خارجہ کی ملاقات، ایران اور خلیج کی صورتحال پر گفتگو آبنائے ہرمز میں نیا عارضی بحری راستہ قائم کرنے کی تیاری مکمل کرلی: ایران پنجاب حکومت کی انتظامی سطح پر تبدیلیاں، 46 افسروں کے تقرر و تبادلے حیدرآباد میں سی ٹی ڈی کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی میں دہشت گرد گرفتار حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا، ڈیزل سستا اسحاق ڈار کی اردن میں ترک، مصری اور الجزائر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں دو سالہ جلاوطنی کے بعد شیخ حسینہ کا بنگلادیش واپسی کا اعلان نیتن یاہو کا حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ میں کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان پاک ایران سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق، کراچی تا چاہ بہار تجارتی راہداری کی تجویز صومالی وزیرِ دفاع کی نیول چیف اور ایئر چیف سے ملاقاتیں، دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال سسٹم والا بیان بے معنی، ملک میں ہائبرڈ نہیں، آئینی جمہوری نظام ہے: رانا ثنا اللہ وزیراعظم اپنی مدت پوری کرینگے، تمام وزارتوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے: محسن نقوی ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات طے پاگئے: اسماعیل بقائی ایران غزہ مذاکرات میں حماس کے ساتھ کھڑا رہے گا: مسعود پزشکیان

خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ

Web Desk

3 August 2026

مصنوعی ذہانت (AI) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر ایلون مسک اور جیف بیزوس سمیت دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اسپیس ایکس (SpaceX) اور بلیو اوریجن (Blue Origin) جیسی کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ نچلے مدار میں ڈیٹا سینٹرز کی منتقلی سے شمسی توانائی کے ذریعے بے پناہ بجلی حاصل کی جا سکے گی اور زمین پر توانائی کے دباؤ اور حرارت میں کمی آئے گی۔ تاہم، ماہرینِ ماحولیات اور ‘ارتھ جسٹس’ کے سائنسدانوں نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) میں درخواست دائر کرتے ہوئے ان منصوبوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ لاکھوں مصنوعی سیاروں اور راکٹ لانچز میں اضافے سے اوزون کی تہہ کو شدید نقصان، خلائی ملبے میں اضافہ، رات کے آسمان کی قدرتی شکل کی تبدیلی اور جنگلی حیات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے جامع جائزہ لیے بغیر لائسنس جاری نہ کیے جائیں۔