LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کا آبنائے ملاکا کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے عزم کا اعادہ جنوبی سوڈان میں 2 امن فوجیوں کی ہلاکت، اقوام متحدہ کی شدید مذمت چین کا امریکا سے خود مختار ریاستوں میں آزادانہ انتخابات میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ ہیٹی میں گینگ کے حملے میں 40 افراد ہلاک، درجنوں گھر نذر آتش امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، 4 اہلکار محفوظ امریکا نے ایران پر حملوں کو پابندیوں میں منتقل کر دیا، مارکو روبیو عمانی وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب کیساتھ بات چیت کو تعمیری قرار دے دیا امریکا اور ایران نے نئی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا: روسی میڈیا کا دعویٰ اسلامی اقوام میں بیداری اور اتحاد دشمن کی سازشوں کا واحد توڑ ہے، ایرانی صدر عمان کے ساتھ معاہدے کا مطلب آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا نہیں، کاظم غریب آبادی کینیڈا نے تقریباً 700 امریکی مصنوعات پر 15، 25 اور 50 فیصد ٹیرف لگا دیے ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کو سہارا دینے والے تمام معاشی ذرائع ختم کرنے کا اعلان ایران اور عمان کا ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کی مرحلہ وار بحالی پر اتفاق امریکا نے عالمی سلامتی خطرے میں ڈال دی: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ صدر، وزیراعظم کی عید میلادالنبیﷺ پر قوم کو مبارکباد، وطن میں امن کیلئے دعائیں

اسپیس ایکس کا راکٹ اپنے مدار سے بھٹک گیا، آج کسی بھی وقت چاند سے ٹکرانے کے خدشہ

Web Desk

5 August 2026

امریکہ کی نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کا Falcon 9 راکٹ آج کسی بھی وقت چاند کی سطح سے ٹکرانے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ یہ وہی راکٹ ہے جس نے جنوری 2025 میں امریکی کمپنی فائر فلائی ایرو اسپیس کے ‘بلیو گھوسٹ’ اور جاپانی کمپنی آئی اسپیس کے ‘ریزیلینس’ قمری لینڈرز کو خلا میں روانہ کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق لانچ کے بعد راکٹ کا پہلا مرحلہ کامیابی سے زمین پر واپس آ گیا تھا جبکہ دوسرا یعنی بالائی حصہ مشنز کو چاند کی جانب دھکیلنے کے بعد خلا میں ہی موجود رہا۔ اسپیس ایکس میں ناسا سائنس اور ڈریگن پروگرامز کی ڈائریکٹر جولیانا شیمین کے مطابق سورج کی شمسی سرگرمیوں اور کششِ ثقل کے مشترکہ اثرات نے اس راکٹ کے بالائی حصے کا راستہ تبدیل کر دیا جس سے وہ چاند سے تصادم کے راستے پر گامزن ہو گیا۔ اگرچہ اس تصادم سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے، تاہم سائنس دان اسے چاند کی سطح پر اثرات اور خلائی ملبے کی حرکت کو سمجھنے کے لیے ایک انتہائی اہم موقع قرار دے رہے ہیں۔