نیند کے دوران لوگوں کو درپیش ایک عام مسئلہ بڑے خطرے کی علامت قرار
Web Desk
11 April 2026
نیند کے دوران خراٹے لینے کا عام سا نظر آنے والا مسئلہ درحقیقت جان لیوا ہائی بلڈ پریشر کی ابتدائی نشانی ہو سکتا ہے، جس سے فالج (Stroke) اور ہارٹ فیلیئر کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ آسٹریلیا کی فلینڈرز یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، درمیانی عمر کے مردوں میں خراٹے لینے اور بلڈ پریشر میں اضافے کے درمیان گہرا تعلق پایا گیا ہے۔ اس مطالعے میں ماہرین نے جدید مانیٹرنگ ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے رات کے وقت نیند کے معیار اور خون کے دباؤ کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وہ افراد جو اضافی جسمانی وزن کے مالک تھے، وہ دیگر کے مقابلے میں اوسطاً 20 فیصد زیادہ خراٹے لیتے تھے۔ مجموعی طور پر تحقیق میں شامل 15 فیصد افراد میں یہ عادت مستقل بنیادوں پر پائی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب سائنسی طور پر اتنے پختہ شواہد ملے ہیں کہ رات کے وقت مسلسل خراٹے لینا ہائی بلڈ پریشر کی دعوت دیتا ہے، جو آگے چل کر دل کی سنگین بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
محققین نے خبردار کیا ہے کہ خراٹوں کو محض ایک عام عادت سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے اور دل کی صحت کو یقینی بنانے کے لیے خراٹوں پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ طبی ماہرین کے مطابق، وزن میں کمی، سونے کے انداز میں تبدیلی اور ضرورت پڑنے پر معالج سے رجوع کرنا فالج اور ہارٹ اٹیک جیسے جان لیوا خطرات سے بچا سکتا ہے۔ اس تحقیق نے نیند کی صحت اور قلبی امراض کے درمیان تعلق کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
متعلقہ عنوانات
پروٹین کی کم مقدار طویل عمر میں مددگار ہو سکتی ہے: تحقیق
3 August 2026
کراچی: جناح اسپتال میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے جدید سینٹر کا افتتاح
3 August 2026
جگر 80 فیصد تک متاثر ہونے پر بھی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، ماہرین نے خبردار کردیا
3 August 2026
خیبر پختونخوا: 1ہفتے میں ڈینگی کے 35 کیسز رپورٹ
3 August 2026
دانتوں میں کیڑا روکنے کا آسان علاج دریافت
1 August 2026
ایف آئی اے کی بڑی کارروائی؛ غیر قانونی فارماسیوٹیکل فیکٹری سیل، جعلی ادویہ برآمد
1 August 2026
ہسپتال بنانے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے، وفاق اپنی ڈسپنسریاں اپ گریڈ کر سکتا ہے: مصطفیٰ کمال
1 August 2026
پولٹری فارمنگ انسانی صحت کیلئے مضر؟ نئی تحقیق
31 July 2026