LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

پولٹری فارمنگ انسانی صحت کیلئے مضر؟ نئی تحقیق

Web Desk

31 July 2026

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ صنعتی پیمانے پر مرغیاں پالنے کے جدید نظام نے فوڈ پوائزننگ کا سبب بننے والے ‘کیمپائلوبیکٹر’ (Campylobacter) نامی خطرناک بیکٹیریا کے پھیلاؤ اور ارتقاء میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ 1960 کی دہائی سے اب تک دنیا بھر میں مرغیوں کی تعداد 7 گنا بڑھ کر 31 ارب تک پہنچ چکی ہے، جس نے اس جراثیم کو جنگلی پرندوں سے فارمی مرغیوں اور پھر انسانوں میں منتقل ہونے کا سازگار ماحول فراہم کیا۔ 1979 سے 2024 تک 30 ممالک کے 2800 جینیاتی نمونوں کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف شدید مزاحمت پیدا ہو چکی ہے، جس سے اس کے انفیکشنز کا علاج مزید دشوار ہو رہا ہے۔ آکسفورڈ شائر میں انسانوں میں سامنے آنے والے 80 فیصد کیسز کا تعلق مرغی کے گوشت سے پایا گیا ہے، جس پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیکٹیریا کے اس ارتقائی عمل کو نہ روکا گیا تو یہ عالمی سطح پر انسانی صحت کے لیے ایک شدید بحران بن سکتا ہے۔