پولٹری فارمنگ انسانی صحت کیلئے مضر؟ نئی تحقیق
Web Desk
31 July 2026
آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ صنعتی پیمانے پر مرغیاں پالنے کے جدید نظام نے فوڈ پوائزننگ کا سبب بننے والے ‘کیمپائلوبیکٹر’ (Campylobacter) نامی خطرناک بیکٹیریا کے پھیلاؤ اور ارتقاء میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ 1960 کی دہائی سے اب تک دنیا بھر میں مرغیوں کی تعداد 7 گنا بڑھ کر 31 ارب تک پہنچ چکی ہے، جس نے اس جراثیم کو جنگلی پرندوں سے فارمی مرغیوں اور پھر انسانوں میں منتقل ہونے کا سازگار ماحول فراہم کیا۔ 1979 سے 2024 تک 30 ممالک کے 2800 جینیاتی نمونوں کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف شدید مزاحمت پیدا ہو چکی ہے، جس سے اس کے انفیکشنز کا علاج مزید دشوار ہو رہا ہے۔ آکسفورڈ شائر میں انسانوں میں سامنے آنے والے 80 فیصد کیسز کا تعلق مرغی کے گوشت سے پایا گیا ہے، جس پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیکٹیریا کے اس ارتقائی عمل کو نہ روکا گیا تو یہ عالمی سطح پر انسانی صحت کے لیے ایک شدید بحران بن سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
غریب گھرانوں کے نوجوانوں میں کھانے کی بیماریاں زیادہ عام ہونے کا انکشاف!
13 September 2026
صحت کیلیے ہمارا 14 ماہ کا کام پچھلے 30 سالوں سے بہتر ہے، مصطفی کمال
13 September 2026
بہت گرم چائے سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف
13 September 2026
بنگلہ دیش میں خسرے سے ایک ہزار سے زائد بچے ہلاک
12 September 2026
ہیپاٹائٹس سی کے مریض ایک کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز، اسلام آباد سے ملک گیر اسکریننگ پروگرام شروع
12 September 2026
روزانہ ایک انڈے کا استعمال وزن بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے
12 September 2026
بنوں میں 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق
11 September 2026
ملک بھر کے 115 مخصوص اضلاع میں 21 تا 27 ستمبر ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کا اعلان
11 September 2026