LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں اضافہ، سیلاب، کئی دیہات زیر آب، زمینی رابطہ منقطع امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ایرانی دعویٰ مسترد کر دیا بیلاروس کے وفد کا نیول ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، چیف آف نیول سٹاف سے ملاقات شہدا پر سیاست نا قابل قبول، سیاست کو دہشتگردی سے نہ جوڑا جائے: سرفراز بگٹی کشمیری عوام کے صبر اور برداشت کو سلام پیش کرتا ہوں، تحریک دنیا بھر میں پھیل رہی ہے: مولانا فضل الرحمان امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، “ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟ ایران کا کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: انتخابی مہم کا وقت ختم، دنگل کل سجے گا ارشد ندیم جیولن تھرو فائنل میں میڈل کی دوڑ سے باہر خاتون باکسر فاطمہ زہرہ نے کامن ویلتھ گیمز میں تاریخ رقم کر دی مؤقف پر قائم ہوں، کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونے دیں گے: خواجہ آصف سعودیہ کا حماس کی تخفیفِ اسلحہ پر آمادگی کا خیرمقدم، ٹرمپ کے کردار کو سراہا حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امن کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، کایا کالاس ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

پولٹری فارمنگ انسانی صحت کیلئے مضر؟ نئی تحقیق

Web Desk

31 July 2026

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ صنعتی پیمانے پر مرغیاں پالنے کے جدید نظام نے فوڈ پوائزننگ کا سبب بننے والے ‘کیمپائلوبیکٹر’ (Campylobacter) نامی خطرناک بیکٹیریا کے پھیلاؤ اور ارتقاء میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ 1960 کی دہائی سے اب تک دنیا بھر میں مرغیوں کی تعداد 7 گنا بڑھ کر 31 ارب تک پہنچ چکی ہے، جس نے اس جراثیم کو جنگلی پرندوں سے فارمی مرغیوں اور پھر انسانوں میں منتقل ہونے کا سازگار ماحول فراہم کیا۔ 1979 سے 2024 تک 30 ممالک کے 2800 جینیاتی نمونوں کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف شدید مزاحمت پیدا ہو چکی ہے، جس سے اس کے انفیکشنز کا علاج مزید دشوار ہو رہا ہے۔ آکسفورڈ شائر میں انسانوں میں سامنے آنے والے 80 فیصد کیسز کا تعلق مرغی کے گوشت سے پایا گیا ہے، جس پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیکٹیریا کے اس ارتقائی عمل کو نہ روکا گیا تو یہ عالمی سطح پر انسانی صحت کے لیے ایک شدید بحران بن سکتا ہے۔