LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ پی سی بی اور الائیڈ بینک میں سکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلئے 10 کروڑ روپے کا معاہدہ امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا ماسکو میں گیس برآمد کرنیوالے ممالک کے آٹھویں سربراہی اجلاس کا اعلامیہ منظور جام کمال خان کا دوحہ میں پاکستانی مصنوعات کے ایکسپورٹ ڈسپلے سینٹر کا افتتاح مولانا فضل الرحمٰن کی راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کمانڈر کویت نیول فورس کی نیول ہیڈکوارٹرز آمد، نیول چیف سے ملاقات 9 مئی کیس: سہیل آفریدی سمیت پانچ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ملک بھر میں اسکولز ہاکی لیگ شروع کرنےکا فیصلہ ایبٹ آباد پبلک سکول کے مسائل حل کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، گورنر فیصل کریم الیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم: انتخابی شیڈول مانگ لیا گیا ایران کا قطر سے ثالثی کے تقاضوں پر عمل اور محتاط بیانات کا مطالبہ گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، ملک کسی جرنیل کی جاگیر نہیں:مولانا فضل الرحمان جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا: حافظ نعیم

پولٹری فارمنگ انسانی صحت کیلئے مضر؟ نئی تحقیق

Web Desk

31 July 2026

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ صنعتی پیمانے پر مرغیاں پالنے کے جدید نظام نے فوڈ پوائزننگ کا سبب بننے والے ‘کیمپائلوبیکٹر’ (Campylobacter) نامی خطرناک بیکٹیریا کے پھیلاؤ اور ارتقاء میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ 1960 کی دہائی سے اب تک دنیا بھر میں مرغیوں کی تعداد 7 گنا بڑھ کر 31 ارب تک پہنچ چکی ہے، جس نے اس جراثیم کو جنگلی پرندوں سے فارمی مرغیوں اور پھر انسانوں میں منتقل ہونے کا سازگار ماحول فراہم کیا۔ 1979 سے 2024 تک 30 ممالک کے 2800 جینیاتی نمونوں کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف شدید مزاحمت پیدا ہو چکی ہے، جس سے اس کے انفیکشنز کا علاج مزید دشوار ہو رہا ہے۔ آکسفورڈ شائر میں انسانوں میں سامنے آنے والے 80 فیصد کیسز کا تعلق مرغی کے گوشت سے پایا گیا ہے، جس پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیکٹیریا کے اس ارتقائی عمل کو نہ روکا گیا تو یہ عالمی سطح پر انسانی صحت کے لیے ایک شدید بحران بن سکتا ہے۔