LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کسی کو فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،مولانا فضل الرحمان صدر پوتن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 80ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد ایران پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا: ایرانی سفیر اسحاق ڈار سے جاپانی وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مفاہمت کا خیر مقدم کراچی: اسٹیٹ بینک نے وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے دائرہ کار میں توسیع کر دی پنجاب کا 5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش ہوگا، ترقیاتی بجٹ نصف کر دیا گیا امن کا سورج طلوع، جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کی میزبانی پاکستان کرے گا: وزیراعظم

دنیا کا انوکھا شہر جہاں مرنا منع ہے، قانون توڑنے والے کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

Web Desk

12 May 2026

دنیا میں کئی عجیب و غریب قوانین پائے جاتے ہیں، لیکن ناروے کے دور افتادہ جزیرے ‘سوالبارڈ’ (Svalbard) کے شہر لانگیئر بائین (Longyearbyen) کا قانون سب سے منفرد ہے۔ یہاں 1950 سے ایک ایسا قانون نافذ ہے جس کے تحت شہر کی حدود میں مرنے یا دفن ہونے پر پابندی ہے۔

سائنسی وجہ: پرما فراسٹ (Permafrost) اس انوکھے قانون کے پیچھے کوئی مذہبی یا روایتی وجہ نہیں بلکہ خالص سائنسی حقیقت ہے۔ اس خطے کی زمین ‘پرما فراسٹ’ ہے، یعنی یہاں کی مٹی مستقل طور پر جمی رہتی ہے۔

  • تجزیہ: ماہرین نے دہائیوں قبل یہ دریافت کیا کہ شدید سردی کی وجہ سے یہاں انسانی لاشیں قدرتی طور پر گلتی سڑتی نہیں ہیں بلکہ منجمد ہو کر محفوظ ہو جاتی ہیں۔

  • حیاتیاتی خطرہ: لاشوں کے نہ گلنے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں موجود قدیم وائرس اور مہلک بیماریاں (جیسے کہ 1918 کا ہسپانوی فلو) دہائیوں بعد بھی زندہ رہ سکتی ہیں، جو پگھلنے کی صورت میں پورے شہر کے لیے وبائی خطرہ بن سکتے ہیں۔

آخری وقت کی ہجرت: اس قانون کی وجہ سے یہاں کا نظامِ زندگی کچھ یوں ہے:

  1. منتقلی: اگر کوئی شہری شدید بیمار ہو جائے یا بڑھاپے کے باعث اس کی موت کا امکان ہو، تو اسے فوری طور پر ہوائی جہاز کے ذریعے ناروے کے دیگر شہروں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

  2. حادثاتی موت: اگر کسی کی اچانک یا حادثاتی موت واقع ہو جائے، تب بھی لاش کو یہاں کے قدیم قبرستان میں دفن کرنے کے بجائے جزیرے سے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔

تقریباً 2500 کی آبادی والے اس شہر میں لوگ اس حقیقت کے ساتھ جیتے ہیں کہ وہ یہاں رہ تو سکتے ہیں، لیکن اپنی ابدی نیند کے لیے انہیں اس جمی ہوئی زمین کو چھوڑنا ہوگا۔