LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز حادثے کا شکار شالیمار ایکسپریس کی بوگیاں ٹریک پر لگا دی گئیں، ٹرینوں کی آمدورفت بحال روس اور شمالی کوریا کو ملانے والے نئے پل کا افتتاح کردیا گیا مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک شامل ہوسکتے ہیں: سرگئی لاوروف

زرافے بھی بنیادی ریاضی سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تحقین میں انکشاف

Web Desk

4 July 2026

ایک نئی اور منفرد سائنسی تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ زرافے صرف اپنی لمبی گردن اور قد و قامت کے لیے ہی منفرد نہیں ہیں، بلکہ وہ بنیادی درجے کی ریاضی یعنی مقدار کا اندازہ لگانے اور حسابی تبدیلیاں سمجھنے کی حیرت انگیز صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

اسپین میں ہونے والی اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے چڑیا گھروں میں موجود زرافوں پر مختلف تجربات کیے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ معصوم جانور زیادہ اور کم مقدار میں فرق کرنے کے ساتھ ساتھ سادہ حسابی تبدیلیوں کو بھی کسی حد تک سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف بارسلونا، یونیورسٹی آف لیپزگ اور میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار ایوولوشنری اینتھروپولوجی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔

تجربے کے دوران بارسلونا چڑیا گھر کے 4 زرافوں کو دو الگ الگ برتنوں میں مختلف مقدار میں ان کی پسندیدہ غذا یعنی گاجروں کے ٹکڑے دکھائے گئے اور پھر برتنوں کو ڈھانپ دیا گیا۔ زرافے اس پورے عمل کو غور سے دیکھ رہے تھے کہ کس برتن میں مزید گاجریں ڈالی گئیں اور کس سے نکالی گئیں۔ بعد ازاں جب انہیں انتخاب کا موقع ملا، تو زرافوں نے تقریباً 68 فیصد مواقع پر اسی برتن کا رخ کیا جس میں گاجروں کی تعداد زیادہ تھی۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ شرح محض کوئی اتفاق نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زرافے مقدار میں ہونے والی تبدیلی کو سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔

سائنسدانوں نے یہ بھی جانچنے کی کوشش کی کہ کہیں زرافے انسانوں کے اشاروں (مثلاً برتن کو چھونے) پر تو فیصلہ نہیں کر رہے۔ نتائج کے مطابق 4 میں سے 2 زرافے انسانی اشارے سے متاثر ہوئے، لیکن باقی 2 نے مسلسل زیادہ گاجروں والے برتن کا ہی درست انتخاب کیا، جو ان کے پیچیدہ ذہنی عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جب گاجروں کی کل تعداد بہت کم کر دی گئی، تو زرافوں کی کارکردگی متاثر ہوئی اور ان کا انتخاب محض ایک تکا ثابت ہوا۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ زرافے انسانوں کی طرح باقاعدہ ریاضی نہیں کر سکتے، لیکن ان میں اعداد و شمار کی ایک بنیادی سمجھ ضرور موجود ہے جو انہیں جنگل میں خوراک کی تلاش اور روزمرہ کے فیصلوں میں مدد دیتی ہے۔