LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز حادثے کا شکار شالیمار ایکسپریس کی بوگیاں ٹریک پر لگا دی گئیں، ٹرینوں کی آمدورفت بحال روس اور شمالی کوریا کو ملانے والے نئے پل کا افتتاح کردیا گیا مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک شامل ہوسکتے ہیں: سرگئی لاوروف

اٹلی: طالب علموں نے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کرلیا

Web Desk

6 July 2026

اٹلی کی مشہور پیسا یونیورسٹی کے انجینئرنگ کے طالب علموں نے ایک انوکھا کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کر لیا ہے اور اپنا نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں درج کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، طالب علموں کی تیار کردہ اس حیرت انگیز تخلیق کے پروں (Wingspan) کی لمبائی 20.04 میٹر، جبکہ اس کی مجموعی لمبائی 7 میٹر ہے۔ اس دیوقامت کاغذی جہاز کو اٹلی کے شہر بولونیا میں منعقدہ ‘وی میک فیوچر فیئر’ میں نمائش کے لیے بھی پیش کیا گیا، جہاں یہ شرکا کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

پراجیکٹ ٹیم کے ارکان کا کہنا تھا کہ اس منفرد خیال کی ابتدا کلاس روم میں روایتی طور پر چھوٹے کاغذی جہاز بنا کر ایک دوسرے کی طرف اچھالنے اور مذاق کرنے کے دوران ہوئی تھی۔ تاہم، بعد میں طلبہ نے اسے محض ایک مذاق تک محدود رکھنے کے بجائے ایک باقاعدہ انجینئرنگ اور تحقیقی منصوبے (Research Project) کی شکل دے دی۔

اس منصوبے میں ایروناٹیکل انجینئرنگ کے 15 طالب علموں نے حصہ لیا اور ہوا بازی کے سائنسی اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ جہاز تیار کیا۔ گنیز ریکارڈ قائم کرنے کے لیے جب اسے باقاعدہ اڑایا گیا، تو یہ فضا میں 59 میٹر کا فاصلہ طے کرنے میں کامیاب رہا، جس کے ساتھ ہی 2013ء میں قائم ہونے والا سابقہ عالمی ریکارڈ بھی پاش پاش ہو گیا۔

300 کلوگرام کاغذ کا استعمال طالب علموں نے اس شاہکار جہاز کی تیاری میں تقریباً 300 کلوگرام کاغذ اور 60 کلوگرام گوند کا استعمال کیا۔ جہاز کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور توازن برقرار رکھنے کے لیے کاغذ کو شہد کی مکھیوں کے چھتے جیسی مخصوص ساخت (Honeycomb Structure) میں جوڑا گیا، تاکہ جہاز وزنی ہونے کے باوجود اڑان بھرنے کے لیے نسبتاً ہلکا اور لچکدار رہے۔ ٹیم کے مطابق، اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے میں کئی ماہ کی انتھک محنت لگی اور ایک معمولی سے مذاق نے بالآخر انہیں عالمی شہرت دلا دی۔