LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین کے قومی دن پر صدر آصف زرداری کا صدر شی جن پنگ کو خط، پاک-چین شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا اعادہ شام کے شہر حمص میں بس پر فائرنگ: 7 افراد ہلاک، 4 زخمی زمبابوے: ہرارے کے قریب ہیلی کاپٹر حادثہ، 6 افراد ہلاک محسن رضائی کی متحدہ عرب امارات کو نیتن یاہو کی میزبانی پر تنبیہ سعودی ولی عہد کا کشیدگی کم کرنے، سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان احتجاج کے نام پر جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: شرجیل میمن صنعتکار سیاستدانوں پر سیاست چھوڑیں اور صنعتی ترقی پر توجہ دیں: مراد علی شاہ میرے پاس عراق میں رہنے کا آپشن تھا لیکن بہتر وزیراعظم چھوڑ کر جا رہے ہیں:ٹرمپ سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے فلائی دبئی طیارے کے مسافر تل ابیب پہنچ گئے نورستان کی لڑائی کا الزام پاکستان پر عائد کرنا سفید جھوٹ ہے: وزارتِ اطلاعات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گورنر راج یا ایمرجنسی، فیصلہ صدر اور وزیراعظم کا ہوگا: اعظم نذیر تارڑ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج، وزیراعظم سے سپیکر قومی اسمبلی کی اہم ملاقات سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کریں گے: خواجہ آصف پاکستان میں انشورنس پینیٹریشن جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد ہے: سی سی پی

اٹلی: طالب علموں نے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کرلیا

Web Desk

6 July 2026

اٹلی کی مشہور پیسا یونیورسٹی کے انجینئرنگ کے طالب علموں نے ایک انوکھا کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کر لیا ہے اور اپنا نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں درج کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، طالب علموں کی تیار کردہ اس حیرت انگیز تخلیق کے پروں (Wingspan) کی لمبائی 20.04 میٹر، جبکہ اس کی مجموعی لمبائی 7 میٹر ہے۔ اس دیوقامت کاغذی جہاز کو اٹلی کے شہر بولونیا میں منعقدہ ‘وی میک فیوچر فیئر’ میں نمائش کے لیے بھی پیش کیا گیا، جہاں یہ شرکا کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

پراجیکٹ ٹیم کے ارکان کا کہنا تھا کہ اس منفرد خیال کی ابتدا کلاس روم میں روایتی طور پر چھوٹے کاغذی جہاز بنا کر ایک دوسرے کی طرف اچھالنے اور مذاق کرنے کے دوران ہوئی تھی۔ تاہم، بعد میں طلبہ نے اسے محض ایک مذاق تک محدود رکھنے کے بجائے ایک باقاعدہ انجینئرنگ اور تحقیقی منصوبے (Research Project) کی شکل دے دی۔

اس منصوبے میں ایروناٹیکل انجینئرنگ کے 15 طالب علموں نے حصہ لیا اور ہوا بازی کے سائنسی اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ جہاز تیار کیا۔ گنیز ریکارڈ قائم کرنے کے لیے جب اسے باقاعدہ اڑایا گیا، تو یہ فضا میں 59 میٹر کا فاصلہ طے کرنے میں کامیاب رہا، جس کے ساتھ ہی 2013ء میں قائم ہونے والا سابقہ عالمی ریکارڈ بھی پاش پاش ہو گیا۔

300 کلوگرام کاغذ کا استعمال طالب علموں نے اس شاہکار جہاز کی تیاری میں تقریباً 300 کلوگرام کاغذ اور 60 کلوگرام گوند کا استعمال کیا۔ جہاز کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور توازن برقرار رکھنے کے لیے کاغذ کو شہد کی مکھیوں کے چھتے جیسی مخصوص ساخت (Honeycomb Structure) میں جوڑا گیا، تاکہ جہاز وزنی ہونے کے باوجود اڑان بھرنے کے لیے نسبتاً ہلکا اور لچکدار رہے۔ ٹیم کے مطابق، اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے میں کئی ماہ کی انتھک محنت لگی اور ایک معمولی سے مذاق نے بالآخر انہیں عالمی شہرت دلا دی۔