LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کامن ویلتھ گیمز: ارشد ندیم نے جیولین تھرو کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم 4 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ جاری آزاد کشمیر اسمبلی میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور پاکستان امریکا اور ایران کو مفاہمتی یادداشت پر واپس لانے کیلئے سرگرم ہے: دفترِ خارجہ پنجاب میں دریاؤں کی صورتحال بہتر، مون سون بارشوں کا الرٹ جاری سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا لاہور ہائیکورٹ: جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھارتی ایئر لائنز کیلئے بڑا دھچکا نیویارک میں ’ٹیکس ورلڈ 2026ء‘ نمائش کا انعقاد، پاکستان کی بھرپور شرکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 3 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق جاپان: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی امریکا کے ایک بار پھر ایران پر حملے، درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

اٹلی: طالب علموں نے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کرلیا

Web Desk

6 July 2026

اٹلی کی مشہور پیسا یونیورسٹی کے انجینئرنگ کے طالب علموں نے ایک انوکھا کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کر لیا ہے اور اپنا نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں درج کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، طالب علموں کی تیار کردہ اس حیرت انگیز تخلیق کے پروں (Wingspan) کی لمبائی 20.04 میٹر، جبکہ اس کی مجموعی لمبائی 7 میٹر ہے۔ اس دیوقامت کاغذی جہاز کو اٹلی کے شہر بولونیا میں منعقدہ ‘وی میک فیوچر فیئر’ میں نمائش کے لیے بھی پیش کیا گیا، جہاں یہ شرکا کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

پراجیکٹ ٹیم کے ارکان کا کہنا تھا کہ اس منفرد خیال کی ابتدا کلاس روم میں روایتی طور پر چھوٹے کاغذی جہاز بنا کر ایک دوسرے کی طرف اچھالنے اور مذاق کرنے کے دوران ہوئی تھی۔ تاہم، بعد میں طلبہ نے اسے محض ایک مذاق تک محدود رکھنے کے بجائے ایک باقاعدہ انجینئرنگ اور تحقیقی منصوبے (Research Project) کی شکل دے دی۔

اس منصوبے میں ایروناٹیکل انجینئرنگ کے 15 طالب علموں نے حصہ لیا اور ہوا بازی کے سائنسی اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ جہاز تیار کیا۔ گنیز ریکارڈ قائم کرنے کے لیے جب اسے باقاعدہ اڑایا گیا، تو یہ فضا میں 59 میٹر کا فاصلہ طے کرنے میں کامیاب رہا، جس کے ساتھ ہی 2013ء میں قائم ہونے والا سابقہ عالمی ریکارڈ بھی پاش پاش ہو گیا۔

300 کلوگرام کاغذ کا استعمال طالب علموں نے اس شاہکار جہاز کی تیاری میں تقریباً 300 کلوگرام کاغذ اور 60 کلوگرام گوند کا استعمال کیا۔ جہاز کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور توازن برقرار رکھنے کے لیے کاغذ کو شہد کی مکھیوں کے چھتے جیسی مخصوص ساخت (Honeycomb Structure) میں جوڑا گیا، تاکہ جہاز وزنی ہونے کے باوجود اڑان بھرنے کے لیے نسبتاً ہلکا اور لچکدار رہے۔ ٹیم کے مطابق، اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے میں کئی ماہ کی انتھک محنت لگی اور ایک معمولی سے مذاق نے بالآخر انہیں عالمی شہرت دلا دی۔