LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی معاشی جنگ صرف ایران نہیں پوری عالمی برادری کیخلاف ہے: اسماعیل بقائی برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز حادثے کا شکار شالیمار ایکسپریس کی بوگیاں ٹریک پر لگا دی گئیں، ٹرینوں کی آمدورفت بحال روس اور شمالی کوریا کو ملانے والے نئے پل کا افتتاح کردیا گیا

چوری کی انوکھی واردات، 13 کلومیٹر طویل ہائی ٹینشن بجلی کی تاریں غائب

Web Desk

4 July 2026

بھارتی ریاست بہار میں چوری کی ایک انتہائی انوکھی اور حیران کن واردات سامنے آئی ہے، جہاں نامعلوم چور 13 کلومیٹر طویل 11 کلو وولٹ (11KV) کی ہائی ٹینشن بجلی کی تاریں کاٹ کر فرار ہو گئے۔ یہ عجیب و غریب واقعہ ضلع مغربی چمپارن میں پیش آیا، جس کے بعد محکمہ بجلی کی درخواست پر پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

تاریں غائب ہونے کی وجہ سے علاقے کے کھیتوں اور فصلوں کو پانی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے جس سے کسان سخت پریشان ہیں۔ مقامی دیہاتیوں اور رام پوروا مہانوا پنچایت کے سربراہ نے اس معاملے پر محکمہ بجلی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چوری ایک دن میں نہیں بلکہ ایک ماہ کے دوران آہستہ آہستہ کی گئی ہے۔ اگر محکمہ باقاعدگی سے لائنوں کی نگرانی کرتا تو اتنی بڑی واردات کبھی ممکن نہ ہوتی۔

پنچایت سربراہ کے بیٹے اپیندر کمار نے متعلقہ جونیئر انجینئر اور دیگر حکام پر ملامت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تقریباً 88 کھمبوں سے تاریں غائب کی گئیں، جس کی کئی بار شکایت کی گئی مگر حکام نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے شک ظاہر کیا کہ اس میگا چوری میں محکمے کے اپنے افسران اور عملہ ملوث ہو سکتا ہے، اسی لیے پولیس کو بہت تاخیر سے مطلع کر کے معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور جلد ہی واضح ہو جائے گا کہ اس کے پیچھے کوئی بڑا گینگ ہے یا محکمے کی ملی بھگت شامل ہے۔