LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین کے قومی دن پر صدر آصف زرداری کا صدر شی جن پنگ کو خط، پاک-چین شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا اعادہ شام کے شہر حمص میں بس پر فائرنگ: 7 افراد ہلاک، 4 زخمی زمبابوے: ہرارے کے قریب ہیلی کاپٹر حادثہ، 6 افراد ہلاک محسن رضائی کی متحدہ عرب امارات کو نیتن یاہو کی میزبانی پر تنبیہ سعودی ولی عہد کا کشیدگی کم کرنے، سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان احتجاج کے نام پر جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: شرجیل میمن صنعتکار سیاستدانوں پر سیاست چھوڑیں اور صنعتی ترقی پر توجہ دیں: مراد علی شاہ میرے پاس عراق میں رہنے کا آپشن تھا لیکن بہتر وزیراعظم چھوڑ کر جا رہے ہیں:ٹرمپ سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے فلائی دبئی طیارے کے مسافر تل ابیب پہنچ گئے نورستان کی لڑائی کا الزام پاکستان پر عائد کرنا سفید جھوٹ ہے: وزارتِ اطلاعات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گورنر راج یا ایمرجنسی، فیصلہ صدر اور وزیراعظم کا ہوگا: اعظم نذیر تارڑ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج، وزیراعظم سے سپیکر قومی اسمبلی کی اہم ملاقات سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کریں گے: خواجہ آصف پاکستان میں انشورنس پینیٹریشن جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد ہے: سی سی پی

کاکروچ کے لیے ڈائیونگ سُوٹ تیار

Web Desk

4 July 2026

سنگاپور کے سائنسدانوں نے ایک منفرد اور حیران کن ڈائیونگ سوٹ تیار کر لیا ہے، جس کی مدد سے ‘مڈغاسکر ہسنگ کاکروچ’ اب پانی کے اندر بھی مسلسل تین گھنٹے تک نہ صرف زندہ رہ سکتا ہے بلکہ آسانی سے حرکت بھی کر سکتا ہے۔

یہ انقلابی ایجاد سنگاپور کی نان یانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے اسکول آف مکینیکل اینڈ ایرو اسپیس انجینئرنگ کے پروفیسر ہیروتاکا ساتو اور ان کی ٹیم نے کی ہے۔ یہ ٹیم اس سے قبل بھی ایسے ‘بایو ہائبرڈ روبوٹ’ کاکروچ تیار کر چکی ہے جن کے حسی اعضا پر الیکٹروڈز لگا کر انہیں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے آفات زدہ علاقوں میں ملبے تلے دبے زندہ افراد کی تلاش کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ان کاکروچز کی سب سے بڑی کمزوری پانی تھی، جہاں وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔

اس خامی کو دور کرنے کے لیے محققین نے تھری ڈی (3D) پرنٹنگ کے ذریعے ریزن مٹیریل سے ایک خاص ڈائیونگ سوٹ تیار کیا۔ یہ سوٹ کسی روایتی آکسیجن سلنڈر کے بجائے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اور مینگنیز ڈائی آکسائیڈ کے کیمیائی تعامل (کیمیکل ری ایکشن) سے خودکار طریقے سے آکسیجن تیار کرتا ہے، جو کاکروچ کے سانس لینے کے سوراخوں (اسپائریکلز) تک پہنچتی ہے۔ تجربات کے دوران اس سوٹ کو پہن کر کاکروچ نے پانی کے اندر 78.4 ملی میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کی، جو خشکی پر اس کی رفتار سے معمولی سی کم ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے مستقبل میں سیلاب یا دیگر سمندری آفات کے دوران ریسکیو آپریشنز میں بڑی مدد ملے گی۔