LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز حادثے کا شکار شالیمار ایکسپریس کی بوگیاں ٹریک پر لگا دی گئیں، ٹرینوں کی آمدورفت بحال روس اور شمالی کوریا کو ملانے والے نئے پل کا افتتاح کردیا گیا مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک شامل ہوسکتے ہیں: سرگئی لاوروف

کاکروچ کے لیے ڈائیونگ سُوٹ تیار

Web Desk

4 July 2026

سنگاپور کے سائنسدانوں نے ایک منفرد اور حیران کن ڈائیونگ سوٹ تیار کر لیا ہے، جس کی مدد سے ‘مڈغاسکر ہسنگ کاکروچ’ اب پانی کے اندر بھی مسلسل تین گھنٹے تک نہ صرف زندہ رہ سکتا ہے بلکہ آسانی سے حرکت بھی کر سکتا ہے۔

یہ انقلابی ایجاد سنگاپور کی نان یانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے اسکول آف مکینیکل اینڈ ایرو اسپیس انجینئرنگ کے پروفیسر ہیروتاکا ساتو اور ان کی ٹیم نے کی ہے۔ یہ ٹیم اس سے قبل بھی ایسے ‘بایو ہائبرڈ روبوٹ’ کاکروچ تیار کر چکی ہے جن کے حسی اعضا پر الیکٹروڈز لگا کر انہیں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے آفات زدہ علاقوں میں ملبے تلے دبے زندہ افراد کی تلاش کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ان کاکروچز کی سب سے بڑی کمزوری پانی تھی، جہاں وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔

اس خامی کو دور کرنے کے لیے محققین نے تھری ڈی (3D) پرنٹنگ کے ذریعے ریزن مٹیریل سے ایک خاص ڈائیونگ سوٹ تیار کیا۔ یہ سوٹ کسی روایتی آکسیجن سلنڈر کے بجائے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اور مینگنیز ڈائی آکسائیڈ کے کیمیائی تعامل (کیمیکل ری ایکشن) سے خودکار طریقے سے آکسیجن تیار کرتا ہے، جو کاکروچ کے سانس لینے کے سوراخوں (اسپائریکلز) تک پہنچتی ہے۔ تجربات کے دوران اس سوٹ کو پہن کر کاکروچ نے پانی کے اندر 78.4 ملی میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کی، جو خشکی پر اس کی رفتار سے معمولی سی کم ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے مستقبل میں سیلاب یا دیگر سمندری آفات کے دوران ریسکیو آپریشنز میں بڑی مدد ملے گی۔