LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی نجکاری اہداف مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت: PIA کی فنانشل کلوزنگ مکمل آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کا الزام، وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہونے کا دعویٰ,شرجیل میمن بانی پی ٹی آئی سے کل جیل میں وکلا کی ملاقات کا دن، 6 نام جیل حکام کو ارسال پاک ایران تجارتی تعاون میں اہم پیشرفت، اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد آج اسلام آباد پہنچے گا پٹرول پمپس پر کارڈ ادائیگی، سٹیٹ بینک نے بڑی رعایت دے دی شکست خوردہ جماعتیں نتائج تسلیم کرنے کے بجائے انتشار کی سیاست کر رہی ہیں:عظمیٰ بخاری گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا 8 اگست سے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان سرکاری حج اسکیم 2027 کی درخواستوں کی وصولی رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر، 5 اگست تک بارش کی پیشگوئی ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی وزیراعظم کی آزاد کشمیر الیکشن میں برتری پر نوازشریف، کامیاب امیدواروں کو مبارکباد خلیجی ممالک ٹرمپ کی ایران پالیسی سے سخت پریشان اور مایوس ہیں: امریکی اخبار آزاد کشمیر الیکشن کا دوسرا مرحلہ بھی ن لیگ کے نام، 14 سیٹیں جیت لیں، پیپلزپارٹی 5 پر کامیاب تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے: دریائے سندھ میں 245,000 کیوسِک تک بہاؤ کا امکان، نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا: سپریم کورٹ

2040 تک موٹاپے سے 22 کروڑ بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ

Web Desk

5 March 2026

ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی تازہ رپورٹ میں دنیا بھر میں بچوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک 5 سے 19 سال کی عمر کے تقریباً 22 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2040 تک تقریباً 12 کروڑ سکول جانے والے بچوں میں دائمی بیماریوں کی ابتدائی علامات ظاہر ہونے کا خدشہ ہے، جن میں دل کے امراض اور ذیابیطس شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 18 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق چین سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں تقریباً 6.2 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ بھارت میں یہ تعداد 4.1 کروڑ اور امریکا میں 2.7 کروڑ ہے۔ یورپ میں صورتحال سب سے زیادہ برطانیہ میں تشویشناک ہے جہاں تقریباً 38 لاکھ بچوں کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) خطرناک حد تک بلند ہے۔

ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی سربراہ جوہانا رالسٹن نے کہا کہ ایک پوری نسل کو موٹاپے اور مہلک بیماریوں کے حوالے کر دینا درست نہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہر ڈاکٹر کریملن وکرما سنگھے کے مطابق بیشتر حکومتیں فوڈ انڈسٹری کو بچوں کو نشانہ بنانے سے روکنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور مؤثر عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں موٹاپے کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ایک بڑے صحت کے بحران کا سامنا کر سکتی ہیں۔