LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع صرف3سے 5روزکےلیے کی، جلد ڈیل چاہتےہیں، امریکی میڈیا اگلے 36سے 72گھنٹوں میں پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات ممکن ہیں،ٹرمپ سفارتی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر نظررکھے ہوئے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ آبنائے ہرمزکے قریب 3بحری جہازوں پر فائرنگ، 2جہازایرانی تحویل میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات: علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر اہم گفتگو برطانیہ کی امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت، اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات حکومت اور آئی ایم ایف میں نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ پہلگام واقعہ کے ایک سال بعد بھی بھارت شواہد پیش نہ کر سکا: عطاء اللہ تارڑ ایران جنگ کی مخالفت: ایرانی نژاد امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری کو دھمکیاں زمین کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں: وزیراعظم جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس اقوام متحدہ کا جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا

2040 تک موٹاپے سے 22 کروڑ بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ

Web Desk

5 March 2026

ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی تازہ رپورٹ میں دنیا بھر میں بچوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک 5 سے 19 سال کی عمر کے تقریباً 22 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2040 تک تقریباً 12 کروڑ سکول جانے والے بچوں میں دائمی بیماریوں کی ابتدائی علامات ظاہر ہونے کا خدشہ ہے، جن میں دل کے امراض اور ذیابیطس شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 18 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق چین سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں تقریباً 6.2 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ بھارت میں یہ تعداد 4.1 کروڑ اور امریکا میں 2.7 کروڑ ہے۔ یورپ میں صورتحال سب سے زیادہ برطانیہ میں تشویشناک ہے جہاں تقریباً 38 لاکھ بچوں کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) خطرناک حد تک بلند ہے۔

ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی سربراہ جوہانا رالسٹن نے کہا کہ ایک پوری نسل کو موٹاپے اور مہلک بیماریوں کے حوالے کر دینا درست نہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہر ڈاکٹر کریملن وکرما سنگھے کے مطابق بیشتر حکومتیں فوڈ انڈسٹری کو بچوں کو نشانہ بنانے سے روکنے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور مؤثر عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں موٹاپے کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ایک بڑے صحت کے بحران کا سامنا کر سکتی ہیں۔