سائنس دانوں نے ٹی بی کے لیے نئی ٹیسٹ ٹیکنالوجی تیار کرلی
Web Desk
4 April 2026
یونیورسٹی آف کیلیوفورنیا، ڈیوس کے محققین نے تپِ دق (تپ دق) کی تشخیص کے لیے ایک جدید بلڈ ٹیسٹ ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے، جو بیماری کی فعال اور متعدی شکل کو درست طریقے سے شناخت کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نئی پیشرفت کا مقصد نہ صرف بیماری کی بروقت تشخیص کو ممکن بنانا ہے بلکہ اس کے پھیلاؤ کو بھی مؤثر انداز میں روکنا ہے۔
اس وقت استعمال ہونے والے ٹیسٹ اس بات کی درست نشاندہی نہیں کر پاتے کہ ٹی بی کا انفیکشن فعال ہے یا پوشیدہ، حالانکہ صرف فعال ٹی بی کے مریض ہی بیماری دوسروں تک منتقل کرتے ہیں، جو کھانسنے، چھینکنے یا بات کرنے کے دوران جراثیم پھیلا سکتے ہیں۔
تحقیق سے وابستہ پروفیسر عمران ایچ خان کا کہنا ہے کہ ٹی بی سے متاثرہ ممالک میں 35 سے 40 فیصد افراد میں یہ انفیکشن پوشیدہ حالت میں موجود ہوتا ہے، مگر وہ ضروری نہیں کہ بیمار ہوں یا دوسروں کے لیے خطرہ بنیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ ٹیسٹ چونکہ پوشیدہ انفیکشن کو بھی مثبت ظاہر کرتے ہیں، اس لیے فعال مریضوں کی درست شناخت مشکل ہو جاتی ہے، جبکہ اصل خطرہ انہی افراد سے ہوتا ہے جو بیماری کو پھیلا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں ٹی بی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے اور صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم
17 September 2026
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026
خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی
17 September 2026
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026