سمندری پانی بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے: تحقیق
Web Desk
18 April 2026
سائنس دانوں نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے ایک سنگین طبی وارننگ جاری کی ہے، جس کے مطابق پینے کے پانی میں سمندری پانی کی آمیزش (نمکینی) براہِ راست بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) اور فالج کے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی اس جامع تحقیق میں دنیا بھر کے 74 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ پینے کے پانی میں نمک کی مقدار بڑھنے سے نہ صرف بلڈ پریشر بڑھتا ہے بلکہ یہ دل کے امراض اور اسٹروک (فالج) کے خطرات کو بھی مہمیز دیتا ہے۔
تحقیق کا سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ نمکین پانی پینا انسانی صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ غیر فعال طرزِ زندگی (ورزش نہ کرنا)۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ان ساحلی علاقوں میں شدت اختیار کر رہا ہے جہاں زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہونے یا موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سمندر کا پانی پینے کے میٹھے پانی کے ذخائر میں شامل ہو رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
انسٹیٹیوٹ آف سرجیکل آرتھو پیڈک اینڈ میڈیکل رہیب اور چلڈرن ہسپتال فور کی منظوری
19 June 2026
حاملہ خواتین 45 کیمیکلز کے زیر اثر رہتی ہیں، تحقیق میں انکشاف
18 June 2026
لاہور کے میو ہسپتال سے لاکھوں روپے کی قیمتی ادویات چوری
18 June 2026
الزائمر کی بیماری سے نمٹنے کا حیران کن نیا طریقہ دریافت کر لیا گیا
18 June 2026
اسلام آباد: شدید بارشوں اور سیلاب سے متعدی امراض پھیلنے کا خدشہ
17 June 2026
سندھ میں خسرہ کی وبا شدت اختیار کرگئی، 53 بچے جاں بحق
16 June 2026
وزن اٹھانا انسانوں کیلئے کتنا مفید ہے؟
16 June 2026
سائنس دانوں نے پہلی بار زندہ بافتوں میں مائیکرو پلاسٹکس کا سراغ لگا لیا
16 June 2026