سمندری پانی بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے: تحقیق
Web Desk
18 April 2026
سائنس دانوں نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے ایک سنگین طبی وارننگ جاری کی ہے، جس کے مطابق پینے کے پانی میں سمندری پانی کی آمیزش (نمکینی) براہِ راست بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) اور فالج کے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی اس جامع تحقیق میں دنیا بھر کے 74 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ پینے کے پانی میں نمک کی مقدار بڑھنے سے نہ صرف بلڈ پریشر بڑھتا ہے بلکہ یہ دل کے امراض اور اسٹروک (فالج) کے خطرات کو بھی مہمیز دیتا ہے۔
تحقیق کا سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ نمکین پانی پینا انسانی صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ غیر فعال طرزِ زندگی (ورزش نہ کرنا)۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ان ساحلی علاقوں میں شدت اختیار کر رہا ہے جہاں زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہونے یا موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سمندر کا پانی پینے کے میٹھے پانی کے ذخائر میں شامل ہو رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ورزش سے دل پر مرتب ہونیوالے ایک حیرت انگیز اثر کا انکشاف
27 October 2026
خیبر پختونخوا میں ایم پاکس کے 4 نئے تصدیق شدہ کیسز رپورٹ
27 October 2026
کینسر کی واپسی کو 42 فیصد تک کم کرنے والی ویکسین تیار
27 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
27 October 2026
ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ قابلِ قبول نہیں: احد چیمہ
26 October 2026
پی ایم ڈی سی کی میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایڈمیشن پالیسی 2026 جاری، بھاری جرمانوں کا فیصلہ
26 October 2026
سانس لینے کی مخصوص مشقیں ذہنی کیفیت تبدیل کر سکتی ہیں: تحقیق
26 October 2026
وزیراعظم 27 اکتوبر کو پاک چائنا فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کریں گے: مصطفیٰ کمال
26 October 2026