سمندری پانی بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے: تحقیق
Web Desk
18 April 2026
سائنس دانوں نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے ایک سنگین طبی وارننگ جاری کی ہے، جس کے مطابق پینے کے پانی میں سمندری پانی کی آمیزش (نمکینی) براہِ راست بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) اور فالج کے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی اس جامع تحقیق میں دنیا بھر کے 74 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ پینے کے پانی میں نمک کی مقدار بڑھنے سے نہ صرف بلڈ پریشر بڑھتا ہے بلکہ یہ دل کے امراض اور اسٹروک (فالج) کے خطرات کو بھی مہمیز دیتا ہے۔
تحقیق کا سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ نمکین پانی پینا انسانی صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ غیر فعال طرزِ زندگی (ورزش نہ کرنا)۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ان ساحلی علاقوں میں شدت اختیار کر رہا ہے جہاں زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہونے یا موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سمندر کا پانی پینے کے میٹھے پانی کے ذخائر میں شامل ہو رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
خیبر پختونخوا: 1ہفتے میں ڈینگی کے 35 کیسز رپورٹ
3 August 2026
دانتوں میں کیڑا روکنے کا آسان علاج دریافت
1 August 2026
ایف آئی اے کی بڑی کارروائی؛ غیر قانونی فارماسیوٹیکل فیکٹری سیل، جعلی ادویہ برآمد
1 August 2026
ہسپتال بنانے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے، وفاق اپنی ڈسپنسریاں اپ گریڈ کر سکتا ہے: مصطفیٰ کمال
1 August 2026
پولٹری فارمنگ انسانی صحت کیلئے مضر؟ نئی تحقیق
31 July 2026
مہنگائی اور بے روزگاری سے ذہنی بیماریوں میں خطرناک اضافہ، ماہرین کا انتباہ
31 July 2026
ملک کے جنوبی علاقوں میں ڈینگی وائرس پھیلنے کا امکان: ماہرین کا انتباہ
31 July 2026
ہسپتال بنا کر علاج کرنا ہیلتھ کیئر نہیں، انسانوں کو بیماریوں سے بچانا حقیقی صحت ہے۔وفاقی وزیر صحت
31 July 2026