سمندری پانی بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے: تحقیق
Web Desk
18 April 2026
سائنس دانوں نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے ایک سنگین طبی وارننگ جاری کی ہے، جس کے مطابق پینے کے پانی میں سمندری پانی کی آمیزش (نمکینی) براہِ راست بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) اور فالج کے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی اس جامع تحقیق میں دنیا بھر کے 74 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ پینے کے پانی میں نمک کی مقدار بڑھنے سے نہ صرف بلڈ پریشر بڑھتا ہے بلکہ یہ دل کے امراض اور اسٹروک (فالج) کے خطرات کو بھی مہمیز دیتا ہے۔
تحقیق کا سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ نمکین پانی پینا انسانی صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ غیر فعال طرزِ زندگی (ورزش نہ کرنا)۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ان ساحلی علاقوں میں شدت اختیار کر رہا ہے جہاں زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہونے یا موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سمندر کا پانی پینے کے میٹھے پانی کے ذخائر میں شامل ہو رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم
17 September 2026
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026
خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی
17 September 2026
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026