LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دراندازی پر سخت ردعمل، پاکستان کے افغانستان میں 10 فوجی اہداف پر حملے پاکستان نے افغان سرزمین سے ڈرونز بھیجنا ملکی خود مختاری، سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیدیا چینی صدر 3 روزہ دورے پر امریکہ پہنچ گئے، ریڈ کارپٹ استقبال، توپوں کی سلامی آبنائے ہرمز میں ایک اور مال بردار بحری جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: برطانوی میری ٹائم امریکی فوج کی دوحہ میں حاضرسروس فوجی افسر کی ہلاکت کی تصدیق غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے فضائی حملے، 4 فلسطینی شہید اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو معاشی طور پر بھی تباہ کرنا شروع کر دیا مقبوضہ مغربی کنارے میں کار حادثہ، امریکا میں تعینات اسرائیلی سفیر کا فوجی بیٹا شدید زخمی یورپی یونین کا روس پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے پر زور وزیراعظم کی یورپی کونسل و یورپی کمیشن کے صدور کو دورہ پاکستان کی دعوت شہباز شریف سے ملاقات میں پاکستان میں جاری اصلاحات پر تبادلہ خیال ہوا، ایم ڈی آئی ایم ایف گورنر خیبر پختونخوا نے کابینہ سے منظور پولیس ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیدیا پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کیخلاف نفرت انگیز تقریر پر مقدمہ درج یورپی پارلیمنٹ کے وفد کا لاہور میوزیم کا دورہ، تاریخی اہمیت، ثقافتی ورثے بارے بریفنگ کون بنے گا آزاد جموں و کشمیر کا صدر؟ انتخاب آج ہوگا

ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع

Web Desk

3 August 2026

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف ایسے شدید اور بڑے پیمانے کے فوجی حملے کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے جن کی مثال دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے کم ہی ملتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی پرزور حمایت کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پینٹاگون اور امریکی افواج کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور فوری کارروائی کے لیے مکمل جنگی تیاری (Full Combat Readiness) کی حالت میں رکھا گیا ہے۔

یہ تند و تیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ اور لفظی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے بھی ایران کو بدترین نتائج اور بے مثال فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ دفاعی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے اس طرح کے جارحانہ بیانات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خطرات کو بڑھا رہے ہیں بلکہ عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب عالمی برادری کی جانب سے مسلسل دونوں اطراف سے تحمل اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔