LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 2700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ سوات: کبل خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی، حملے کا مقدمہ درج ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کے پی پولیس میں انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ الگ کرنے کا فیصلہ امریکی ریاست آئیڈاہو میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کر لی شام اور اردن کا عراقی سرزمین سے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان ایران امریکا کشیدگی میں کمی کیساتھ ہی خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ چین کا صوبہ گانسو میں سیلاب سے تباہی کی ذمہ داری کے تعین کیلئے تحقیقات کا اعلان یوکرین کا روس میں ڈرون حملہ، 13 سالہ لڑکی ہلاک، 2 شدید زخمی چین کے سٹیل پلانٹ میں دھماکے کی تحقیقات مکمل، 62 افراد ذمہ دار قرار، 7 گرفتار آسٹریا میں جون کے دوران ہیٹ ویوز کے باعث 395 اموات ریکارڈ پیپر لیک اور امتحانات منسوخی: راہول گاندھی کا مودی سرکار سے معافی مانگنے کا مطالبہ دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں: حنیف عباسی کی سوات میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی: شزہ فاطمہ

ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع

Web Desk

3 August 2026

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف ایسے شدید اور بڑے پیمانے کے فوجی حملے کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے جن کی مثال دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے کم ہی ملتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی پرزور حمایت کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پینٹاگون اور امریکی افواج کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور فوری کارروائی کے لیے مکمل جنگی تیاری (Full Combat Readiness) کی حالت میں رکھا گیا ہے۔

یہ تند و تیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ اور لفظی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے بھی ایران کو بدترین نتائج اور بے مثال فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ دفاعی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے اس طرح کے جارحانہ بیانات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خطرات کو بڑھا رہے ہیں بلکہ عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب عالمی برادری کی جانب سے مسلسل دونوں اطراف سے تحمل اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔