LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امن کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، کایا کالاس ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا اسرائیلی فوج میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی، 14 اہلکار برطرف، قید کی سزا عراق سے مضبوط تعلقات کے خواہاں، فضائی حملوں میں ملیشیا گروپ کو نشانہ بنایا: سعودی عرب امریکا کا ایرانی ڈرون نیٹ ورک سے متعلق معلومات پر 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کینیا میں 15 ہاتھی پراسرار طور پر ہلاک، کیڑے مار ادویات سے آلودہ ٹماٹر کھانے کا شبہ وزیراعظم شہباز شریف کا غزہ امن منصوبے کا خیرمقدم، فلسطینی ریاست کے قیام پر زور بورڈ آف پیس نے غزہ میں جنگ بندی پر عملدرآمد کا روڈ میپ جاری کردیا آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کی تمام شکایات پر کھلی سماعت کی جائے: بلاول بھٹو ایران کی فوجی صلاحیت تیزی سے ختم ہو رہی ہے: ٹرمپ کا دعویٰ پی ٹی آئی بائیکاٹ کی سیاست چھوڑ کر جمہوری عمل میں حصہ لے: مراد علی شاہ کا مشورہ الجزائر میں بس کھائی میں گرنے سے 25 افراد ہلاک، درجنوں زخمی جعلی اے آئی سرمایہ کاری سکیم، عارف حبیب گروپ کا سٹاک ایکسچینج کو انتباہی خط پاسداران انقلاب کا امریکی نگرانی میں آبنائے ہرمز عبور کرنیوالے جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

مہنگائی اور بے روزگاری سے ذہنی بیماریوں میں خطرناک اضافہ، ماہرین کا انتباہ

Web Desk

31 July 2026

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور مسلسل معاشی دباؤ شہریوں کی قوتِ خرید متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت پر بھی سنگین اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن کے باعث ڈپریشن، اینزائٹی، بے خوابی، ہائی بلڈ پریشر اور خاندانی تنازعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نیشنل سائیکائٹرک موربیڈیٹی سروے کے مطابق ملک کی 32.3 فیصد بالغ آبادی کسی نہ کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہے، جبکہ 37.9 فیصد افراد زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا سامنا کر چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے، تاہم ملک میں صرف 300 سے 340 ماہرینِ نفسیات دستیاب ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اوسطاً ہر 7 سے 8 لاکھ افراد کے لیے صرف 1 ماہرِ نفسیات موجود ہے۔ پاکستان سائیکیٹری سوسائٹی کے صدر پروفیسر واجد علی اخوندزادہ کے مطابق ہر 4 میں سے 1 نوجوان اور 5 میں سے 1 بچہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ اس بحران کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (PIMH) لاہور کو جدید ترین خطوط پر اپ گریڈ کرنے اور ان سہولیات کو ضلعی و تحصیل سطح تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔