LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ،تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق فیلڈ مارشل سے جمہوریہ کانگو کے دفاعی وفد کی ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت اپوزیشن کا 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں: سہیل آفریدی بلوچستان کے مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہئیں، وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے: وزیراعظم بلوچستان میں 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 37 دہشتگرد ہلاک اپوزیشن جماعتوں کے نئے الائنس کا معاملہ، اہم مشاورتی اجلاس آج ہوگا پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس، اپوزیشن کا احتجاج ملائیشین وزیر داخلہ کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ڈیجیٹل نظام کو سراہا امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سیاست کا معیار گٹر میں ڈال دیا گیا ہے، خواجہ آصف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دوبارہ نظرثانی درخواست دائر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا

مہنگائی اور بے روزگاری سے ذہنی بیماریوں میں خطرناک اضافہ، ماہرین کا انتباہ

Web Desk

31 July 2026

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور مسلسل معاشی دباؤ شہریوں کی قوتِ خرید متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت پر بھی سنگین اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن کے باعث ڈپریشن، اینزائٹی، بے خوابی، ہائی بلڈ پریشر اور خاندانی تنازعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نیشنل سائیکائٹرک موربیڈیٹی سروے کے مطابق ملک کی 32.3 فیصد بالغ آبادی کسی نہ کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہے، جبکہ 37.9 فیصد افراد زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا سامنا کر چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے، تاہم ملک میں صرف 300 سے 340 ماہرینِ نفسیات دستیاب ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اوسطاً ہر 7 سے 8 لاکھ افراد کے لیے صرف 1 ماہرِ نفسیات موجود ہے۔ پاکستان سائیکیٹری سوسائٹی کے صدر پروفیسر واجد علی اخوندزادہ کے مطابق ہر 4 میں سے 1 نوجوان اور 5 میں سے 1 بچہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ اس بحران کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (PIMH) لاہور کو جدید ترین خطوط پر اپ گریڈ کرنے اور ان سہولیات کو ضلعی و تحصیل سطح تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔