مہنگائی اور بے روزگاری سے ذہنی بیماریوں میں خطرناک اضافہ، ماہرین کا انتباہ
Web Desk
31 July 2026
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور مسلسل معاشی دباؤ شہریوں کی قوتِ خرید متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت پر بھی سنگین اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن کے باعث ڈپریشن، اینزائٹی، بے خوابی، ہائی بلڈ پریشر اور خاندانی تنازعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نیشنل سائیکائٹرک موربیڈیٹی سروے کے مطابق ملک کی 32.3 فیصد بالغ آبادی کسی نہ کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہے، جبکہ 37.9 فیصد افراد زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا سامنا کر چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے، تاہم ملک میں صرف 300 سے 340 ماہرینِ نفسیات دستیاب ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اوسطاً ہر 7 سے 8 لاکھ افراد کے لیے صرف 1 ماہرِ نفسیات موجود ہے۔ پاکستان سائیکیٹری سوسائٹی کے صدر پروفیسر واجد علی اخوندزادہ کے مطابق ہر 4 میں سے 1 نوجوان اور 5 میں سے 1 بچہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ اس بحران کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (PIMH) لاہور کو جدید ترین خطوط پر اپ گریڈ کرنے اور ان سہولیات کو ضلعی و تحصیل سطح تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
غریب گھرانوں کے نوجوانوں میں کھانے کی بیماریاں زیادہ عام ہونے کا انکشاف!
13 September 2026
صحت کیلیے ہمارا 14 ماہ کا کام پچھلے 30 سالوں سے بہتر ہے، مصطفی کمال
13 September 2026
بہت گرم چائے سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف
13 September 2026
بنگلہ دیش میں خسرے سے ایک ہزار سے زائد بچے ہلاک
12 September 2026
ہیپاٹائٹس سی کے مریض ایک کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز، اسلام آباد سے ملک گیر اسکریننگ پروگرام شروع
12 September 2026
روزانہ ایک انڈے کا استعمال وزن بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے
12 September 2026
بنوں میں 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق
11 September 2026
ملک بھر کے 115 مخصوص اضلاع میں 21 تا 27 ستمبر ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کا اعلان
11 September 2026