LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

روزے کے دوران ہائی بلڈ پریشر سے کیسے بچیں؟ ماہرین نے بتادیا

Web Desk

13 March 2026

رمضان المبارک میں روزے رکھنے کے دوران کھانے پینے اور سونے کے معمولات میں نمایاں تبدیلی آ جاتی ہے، جس کے باعث ہائی بلڈ پریشر (ہائیپر ٹینشن) کے مریضوں کو اپنی صحت کے حوالے سے خاص احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق مناسب احتیاط اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کر کے روزے محفوظ طریقے سے رکھے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان میں ادویات کے استعمال کا شیڈول منظم رکھنا بہت ضروری ہے۔ مریضوں کو چاہیے کہ دوا کے اوقات میں بلاوجہ تبدیلی نہ کریں۔ بعض ماہرین کے مطابق افطار کے فوراً بعد دوا لینے کے بجائے تراویح کے بعد دوا لینا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔ اگر کسی دن دوا لینا بھول جائیں تو اگلی خوراک دوگنی لینے سے گریز کریں۔

غذائی عادات بھی بلڈ پریشر کو متاثر کرتی ہیں۔ زیادہ نمک والی غذائیں بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہیں، اس لیے سحر اور افطار میں چپس، پراٹھے، چٹنیاں اور دیگر نمکین اشیا کم استعمال کریں۔ اس کے بجائے تازہ سبزیاں، پھل اور متوازن غذا کو ترجیح دیں۔

پانی کی مناسب مقدار بھی انتہائی اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق افطار سے سحر کے درمیان کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ اسی طرح کم چکنائی والا دودھ بھی دل کی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

رمضان میں ذہنی دباؤ سے بچنا بھی ضروری ہے کیونکہ اسٹریس بلڈ پریشر کو بڑھا سکتا ہے۔ مراقبہ، گہری سانسیں اور عبادات ذہنی سکون فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

افطار کے وقت کھجور اور پانی سے روزہ کھولنے کے بعد ہلکی اور متوازن غذا لینا بہتر سمجھا جاتا ہے جبکہ زیادہ تلی ہوئی اور بھاری غذا سے پرہیز کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق افطار کے بعد ہلکی جسمانی سرگرمی جیسے مختصر چہل قدمی یا ہلکی ورزش بھی مفید ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مناسب نیند اور بلڈ پریشر کی باقاعدہ جانچ بھی صحت کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مریض احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور طبی ہدایات پر عمل کریں تو رمضان کے روزے بغیر کسی بڑی پریشانی کے رکھے جا سکتے ہیں۔