LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
رواں سال خطبۂ حج 35 زبانوں میں نشر کیا جائے گا، سعودی حکومت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہی ہفتے میں دوسری بار ایران پہنچ گئے؛ ایران امریکا مذاکرات پر اہم ملاقاتیں متوقع منتخب نمائندوں پر گولیاں چلائی گئیں، کے پی کے عوام کو دیوار سے نہ لگایا جائے؛ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آئی ایم ایف مشن کے دورہ پاکستان میں توسیع؛ پیٹرولیم لیوی 100 روپے کرنے اور 430 ارب کے نئے ٹیکسوں کا مطالبہ فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹبال کی پاکستان میں پہلی باضابطہ رونمائی، اسلام آباد میں شاندار تقریب مستحق و نادار افراد کو بروقت سہولیات کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہے: وزیراعظم ڈی جی آئی ایس پی آر کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، اساتذہ کیساتھ خصوصی نشست سلہٹ ٹیسٹ: بنگلادیش نے پاکستان کو شکست دے کر وائٹ واش کردیا رواں سال سمگلنگ میں 80 فیصد کمی ہوئی: وزیر مملکت طلال چودھری بجٹ 27-2026 کی تیاریاں: آئی ایم ایف اور ایف بی آر مذاکرات مکمل، 15,262 ارب روپے کا ریکارڈ ٹیکس ہدف مقرر پنجاب اور آذربائیجان کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان امریکہ ایران کیخلاف جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہا ہے، ایرانی مشن امریکی صدر ٹرمپ کا ایران جنگ تیزی سے ختم کرنے کا اعلان ایران کی امریکا کو دوبارہ جارحیت پر سخت کارروائی کی وارننگ

لبلبے کے کینسر کی نئی دوا میں اہم پیشرفت!

Web Desk

14 April 2026

طبی دنیا میں کینسر کے علاج کے حوالے سے ایک انقلابی خبر سامنے آئی ہے، جہاں ایک کلینیکل آنکولوجی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ لبلبے کے کینسر (Pancreatic Cancer) کے آخری مرحلے کے مریضوں کے لیے ایک نئی گولی کی آزمائش انتہائی کامیاب رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق، روزانہ ایک بار لی جانے والی یہ دوا، جس کا نام ڈریکسونراسب (Dracsonrasib) ہے، روایتی کیموتھراپی کے مقابلے میں مریضوں کی زندگی کا دورانیہ تقریباً دوگنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ دریافت ان مریضوں کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں جن کے لیے اب تک بچ جانے کی شرح دیگر کینسرز کے مقابلے میں سب سے کم سمجھی جاتی رہی ہے۔

500 افراد پر مشتمل فیز تھری ٹرائل کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اس دوا کے استعمال سے موت کا خطرہ صرف کیموتھراپی کروانے والوں کے مقابلے میں 60 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علاج نہ صرف زیادہ مؤثر ہے بلکہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں کم تکلیف دہ بھی ہے، جس سے مریض کی زندگی کا معیار بہتر ہو سکتا ہے۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول کے پروفیسر برائن وولپن نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوا ان مریضوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے جن میں کیموتھراپی کے باوجود کینسر تیزی سے پھیلتا رہتا ہے۔

کینسر کے علاج کے اس نئے طریقہ کار کو طبی ماہرین ایک بڑی سفارتی اور سائنسی فتح قرار دے رہے ہیں۔ ڈریکسونراسب جیسی ادویات کا سامنے آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید تحقیق کس طرح جان لیوا امراض کے خلاف انسانی جنگ کو آسان بنا رہی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مزید قانونی منظوریوں کے بعد یہ دوا عالمی سطح پر دستیاب ہوگی، جس سے لبلبے کے کینسر جیسے مہلک مرض سے لڑنے والے لاکھوں مریضوں کو ایک نئی زندگی مل سکے گی۔