LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

لبلبے کے کینسر کی نئی دوا میں اہم پیشرفت!

Web Desk

14 April 2026

طبی دنیا میں کینسر کے علاج کے حوالے سے ایک انقلابی خبر سامنے آئی ہے، جہاں ایک کلینیکل آنکولوجی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ لبلبے کے کینسر (Pancreatic Cancer) کے آخری مرحلے کے مریضوں کے لیے ایک نئی گولی کی آزمائش انتہائی کامیاب رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق، روزانہ ایک بار لی جانے والی یہ دوا، جس کا نام ڈریکسونراسب (Dracsonrasib) ہے، روایتی کیموتھراپی کے مقابلے میں مریضوں کی زندگی کا دورانیہ تقریباً دوگنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ دریافت ان مریضوں کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں جن کے لیے اب تک بچ جانے کی شرح دیگر کینسرز کے مقابلے میں سب سے کم سمجھی جاتی رہی ہے۔

500 افراد پر مشتمل فیز تھری ٹرائل کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اس دوا کے استعمال سے موت کا خطرہ صرف کیموتھراپی کروانے والوں کے مقابلے میں 60 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علاج نہ صرف زیادہ مؤثر ہے بلکہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں کم تکلیف دہ بھی ہے، جس سے مریض کی زندگی کا معیار بہتر ہو سکتا ہے۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول کے پروفیسر برائن وولپن نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوا ان مریضوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے جن میں کیموتھراپی کے باوجود کینسر تیزی سے پھیلتا رہتا ہے۔

کینسر کے علاج کے اس نئے طریقہ کار کو طبی ماہرین ایک بڑی سفارتی اور سائنسی فتح قرار دے رہے ہیں۔ ڈریکسونراسب جیسی ادویات کا سامنے آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید تحقیق کس طرح جان لیوا امراض کے خلاف انسانی جنگ کو آسان بنا رہی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مزید قانونی منظوریوں کے بعد یہ دوا عالمی سطح پر دستیاب ہوگی، جس سے لبلبے کے کینسر جیسے مہلک مرض سے لڑنے والے لاکھوں مریضوں کو ایک نئی زندگی مل سکے گی۔