LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

پولیو کیخلاف دوسری قومی مہم 13 اپریل سے شروع ہو گی

Web Desk

8 April 2026

پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے اور نئی نسل کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے حکومت نے 13 اپریل سے دوسری ملک گیر قومی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی قیادت میں چلنے والی اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے 4 لاکھ سے زائد جفاکش فرنٹ لائن ورکرز حصہ لیں گے، جو گھر گھر جا کر بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں گے۔

یہ مہم چاروں صوبوں—سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا—سمیت گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی بیک وقت چلائی جائے گی۔ حکام کے مطابق، پولیو کے خاتمے کے لیے کوششیں مزید تیز کر دی گئی ہیں تاکہ ملک کو اس مہلک وائرس سے پاک کیا جا سکے۔ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے روشن اور صحتمند مستقبل کے لیے پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں، کیونکہ صرف مستقل ویکسینیشن ہی بچوں کو اس معذوری سے محفوظ رکھنے کا واحد ذریعہ ہے۔