LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی ایرانی رہنماعقلمندہیں توایران کا مستقبل تابناک ہوسکتاہے، امریکی صدر مذاکرات سے خطے میں امن کوفروغ ملے گا، ڈارکا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ مذاکرات میں بریک تھروہواتوایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا، ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس، مذاکرات یقینی بنانے کاعزم امیدہے امریکا ایران مذاکراتی عمل جاری رہے گا، روس اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی سفیر کی ملاقات جاپان میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 7.5 ریکارڈ، سونامی کا خطرہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون: ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے، روئٹرز کا دعویٰ پاک مصر مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار امریکا سے مذاکرات جاری، جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: محمد باقر قالیباف

پولیو کیخلاف دوسری قومی مہم 13 اپریل سے شروع ہو گی

Web Desk

8 April 2026

پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے اور نئی نسل کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے حکومت نے 13 اپریل سے دوسری ملک گیر قومی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی قیادت میں چلنے والی اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے 4 لاکھ سے زائد جفاکش فرنٹ لائن ورکرز حصہ لیں گے، جو گھر گھر جا کر بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں گے۔

یہ مہم چاروں صوبوں—سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا—سمیت گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی بیک وقت چلائی جائے گی۔ حکام کے مطابق، پولیو کے خاتمے کے لیے کوششیں مزید تیز کر دی گئی ہیں تاکہ ملک کو اس مہلک وائرس سے پاک کیا جا سکے۔ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے روشن اور صحتمند مستقبل کے لیے پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں، کیونکہ صرف مستقل ویکسینیشن ہی بچوں کو اس معذوری سے محفوظ رکھنے کا واحد ذریعہ ہے۔