لاہور: چائے کا انوکھا ہوٹل جہاں صرف اشارے بولتے ہیں
Web Desk
3 June 2026
لاہور: زندہ دلانِ لاہور کے تاریخی اور ثقافتی رنگوں میں ایک ایسا انوکھا اور منفرد چائے کا ہوٹل بھی شامل ہے جہاں کوئی آواز سنائی نہیں دیتی، بلکہ صرف اشارے بولتے ہیں۔ لاہور کی تاریخی عابد مارکیٹ میں واقع اس چائے کے ہوٹل کو لوگ عام زبان میں ”گُونگا چائے والا“ کے نام سے جانتے ہیں، جہاں ہوٹل کے مالک سے لے کر تمام ملازمین تک سب سماعت و گویائی سے محروم ہیں.
یہ چائے خانہ کوئی عام ہوٹل نہیں، بلکہ اس کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں. یہ دکان قیامِ پاکستان (1947ء) سے بھی پہلے قائم ہوئی تھی اور آج بھی سماجی طور پر بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم افراد کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی بیٹھک سمجھی جاتی ہے.
اس ہوٹل کی سب سے بڑی اور دلچسپ خاصیت یہ ہے کہ یہاں گونگے اور بہرے افراد بہت بڑی تعداد میں اکٹھے ہوتے ہیں. چائے کے کپ کے ساتھ یہ لوگ آپس میں اشاروں کی زبان (Sign Language) میں ڈھیروں باتیں کرتے ہیں اور اپنا وقت خوشگوار بناتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ یہ تاریخی ہوٹل اب ان خاص افراد کے لیے ایک غیر رسمی ”کمیونٹی سینٹر“ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے.
ہوٹل پر باقاعدگی سے آنے والے ایک گاہک نے بتایا کہ وہ اور ان کے دوست ہر اتوار کی صبح 9 بجے یہاں پہنچ جاتے ہیں اور دوپہر تک یہ پررونق محفل جمی رہتی ہے. ان کا کہنا تھا کہ یہاں آ کر دل بہت ہلکا ہو جاتا ہے کیونکہ گھروں میں ان کا وقت تنہائی کی وجہ سے اچھا نہیں گزرتا.انہوں نے مزید بتایا کہ یہاں آنے والے بیشتر افراد پڑھے لکھے اور برسرِروزگار ہیں، جن میں سے کچھ سرکاری یا نجی اداروں میں ملازمتیں کرتے ہیں جبکہ کچھ اپنے ذاتی کاروبار چلا رہے ہیں. چونکہ تمام دوست ایک دوسرے کے قریب ہی رہائش پذیر ہیں، اس لیے وہ اس جگہ ملنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے.
ہوٹل کے مالک نے اشاروں کی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ روایت آج کی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پرانی ہے. ان کے پاس لوگ دور دور کے علاقوں سے صرف چائے پینے اور اپنے جیسے دوستوں سے ملاقات کے لیے آتے ہیں. انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ ہوٹل گونگے بہروں کی اپنی ایک الگ دنیا اور بیٹھک ہے، جہاں آ کر سب اپنے دل کا غبار اور دل کی باتیں اشاروں میں کھل کر بیان کرتے ہیں.
اس چائے خانے پر گزشتہ 40 برسوں سے باقاعدگی سے آنے والے ایک بزرگ شہری نے پرانے وقتوں کے لاہور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کا ماحول آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ پُرسکون اور پرامن تھا.
“ماضی میں جب ہم یہاں آتے تھے تو لوگ سائیکلوں اور گھوڑا گاڑیوں پر سفر کیا کرتے تھے. اس دور میں نہ تو یہ اسمارٹ فون تھے اور نہ ہی اتنی بدامنی تھی. اب دنیا بدل گئی ہے لیکن اس دکان کی محبت نہیں بدلی. آج بھی جب میں اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ یہاں بیٹھ کر گپ شپ کرتا ہوں تو وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا اور یہی اس خاموش محفل کی سب سے بڑی اور اصل خوبصورتی ہے۔”
متعلقہ عنوانات
چین کا شاہکار: 625 میٹر بلندآبشار پُل، سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
30 July 2026
برطانیہ: 116 سال بعد لائبریری کو کتابیں واپس لوٹا دی گئیں
30 July 2026
4 آم کی قیمت صرف ’’6 لاکھ 12 ہزار روپے‘‘
29 July 2026
بیوی کو تنہا نہ چھوڑنے کیلئے شوہر بھی گہرے مین ہول میں گرگیا
29 July 2026
مہنگی ترین طلاق، عدالت کا سابقہ بیوی کو 644 ملین ڈالر دینے کا حکم
29 July 2026
وسیم اکرم اور شنیرا کا پالتو کتا لاپتہ
29 July 2026
امریکا: 53 برس بعد بوتل میں بند پیغام مل گیا
28 July 2026
امریکی شہری کو سائیکل چلانے کے دوران مشعل جگلنگ کرنا مہنگا پڑ گیا
28 July 2026