LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایا تو امریکی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہیں گے: ایران کا دو ٹوک مؤقف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مئی کے بعد کم ترین سطح پر آگئی امریکی معاشی جنگ صرف ایران نہیں پوری عالمی برادری کیخلاف ہے: اسماعیل بقائی برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز

لاہور: چائے کا انوکھا ہوٹل جہاں صرف اشارے بولتے ہیں

Web Desk

3 June 2026

لاہور: زندہ دلانِ لاہور کے تاریخی اور ثقافتی رنگوں میں ایک ایسا انوکھا اور منفرد چائے کا ہوٹل بھی شامل ہے جہاں کوئی آواز سنائی نہیں دیتی، بلکہ صرف اشارے بولتے ہیں۔ لاہور کی تاریخی عابد مارکیٹ میں واقع اس چائے کے ہوٹل کو لوگ عام زبان میں ”گُونگا چائے والا“ کے نام سے جانتے ہیں، جہاں ہوٹل کے مالک سے لے کر تمام ملازمین تک سب سماعت و گویائی سے محروم ہیں.

یہ چائے خانہ کوئی عام ہوٹل نہیں، بلکہ اس کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں. یہ دکان قیامِ پاکستان (1947ء) سے بھی پہلے قائم ہوئی تھی اور آج بھی سماجی طور پر بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم افراد کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی بیٹھک سمجھی جاتی ہے.

اس ہوٹل کی سب سے بڑی اور دلچسپ خاصیت یہ ہے کہ یہاں گونگے اور بہرے افراد بہت بڑی تعداد میں اکٹھے ہوتے ہیں. چائے کے کپ کے ساتھ یہ لوگ آپس میں اشاروں کی زبان (Sign Language) میں ڈھیروں باتیں کرتے ہیں اور اپنا وقت خوشگوار بناتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ یہ تاریخی ہوٹل اب ان خاص افراد کے لیے ایک غیر رسمی ”کمیونٹی سینٹر“ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے.

 ہوٹل پر باقاعدگی سے آنے والے ایک گاہک نے بتایا کہ وہ اور ان کے دوست ہر اتوار کی صبح 9 بجے یہاں پہنچ جاتے ہیں اور دوپہر تک یہ پررونق محفل جمی رہتی ہے. ان کا کہنا تھا کہ یہاں آ کر دل بہت ہلکا ہو جاتا ہے کیونکہ گھروں میں ان کا وقت تنہائی کی وجہ سے اچھا نہیں گزرتا.انہوں نے مزید بتایا کہ یہاں آنے والے بیشتر افراد پڑھے لکھے اور برسرِروزگار ہیں، جن میں سے کچھ سرکاری یا نجی اداروں میں ملازمتیں کرتے ہیں جبکہ کچھ اپنے ذاتی کاروبار چلا رہے ہیں. چونکہ تمام دوست ایک دوسرے کے قریب ہی رہائش پذیر ہیں، اس لیے وہ اس جگہ ملنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے.

ہوٹل کے مالک نے اشاروں کی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ روایت آج کی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پرانی ہے. ان کے پاس لوگ دور دور کے علاقوں سے صرف چائے پینے اور اپنے جیسے دوستوں سے ملاقات کے لیے آتے ہیں. انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ ہوٹل گونگے بہروں کی اپنی ایک الگ دنیا اور بیٹھک ہے، جہاں آ کر سب اپنے دل کا غبار اور دل کی باتیں اشاروں میں کھل کر بیان کرتے ہیں.

اس چائے خانے پر گزشتہ 40 برسوں سے باقاعدگی سے آنے والے ایک بزرگ شہری نے پرانے وقتوں کے لاہور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کا ماحول آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ پُرسکون اور پرامن تھا.

“ماضی میں جب ہم یہاں آتے تھے تو لوگ سائیکلوں اور گھوڑا گاڑیوں پر سفر کیا کرتے تھے. اس دور میں نہ تو یہ اسمارٹ فون تھے اور نہ ہی اتنی بدامنی تھی. اب دنیا بدل گئی ہے لیکن اس دکان کی محبت نہیں بدلی. آج بھی جب میں اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ یہاں بیٹھ کر گپ شپ کرتا ہوں تو وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا اور یہی اس خاموش محفل کی سب سے بڑی اور اصل خوبصورتی ہے۔”