LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ترک وزیر خارجہ کی حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات، امن مذاکرات پر زور اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال وفاقی آئینی عدالت کا ریٹائرڈ ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ وزیراعظم کی بجلی چوری کے خاتمے کیلئے سخت اقدامات کی ہدایت کشمیر میں انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہئے، بلٹ سے نہیں: بلاول بھٹو نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی ایران کا اردن میں امریکی ایئربیس پر حملہ، تین ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کامن ویلتھ گیمز: ارشد ندیم نے جیولین تھرو کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم 4 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ جاری آزاد کشمیر اسمبلی میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور پاکستان امریکا اور ایران کو مفاہمتی یادداشت پر واپس لانے کیلئے سرگرم ہے: دفترِ خارجہ پنجاب میں دریاؤں کی صورتحال بہتر، مون سون بارشوں کا الرٹ جاری سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا لاہور ہائیکورٹ: جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ

لاہور: چائے کا انوکھا ہوٹل جہاں صرف اشارے بولتے ہیں

Web Desk

3 June 2026

لاہور: زندہ دلانِ لاہور کے تاریخی اور ثقافتی رنگوں میں ایک ایسا انوکھا اور منفرد چائے کا ہوٹل بھی شامل ہے جہاں کوئی آواز سنائی نہیں دیتی، بلکہ صرف اشارے بولتے ہیں۔ لاہور کی تاریخی عابد مارکیٹ میں واقع اس چائے کے ہوٹل کو لوگ عام زبان میں ”گُونگا چائے والا“ کے نام سے جانتے ہیں، جہاں ہوٹل کے مالک سے لے کر تمام ملازمین تک سب سماعت و گویائی سے محروم ہیں.

یہ چائے خانہ کوئی عام ہوٹل نہیں، بلکہ اس کی جڑیں تاریخ میں بہت گہری ہیں. یہ دکان قیامِ پاکستان (1947ء) سے بھی پہلے قائم ہوئی تھی اور آج بھی سماجی طور پر بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم افراد کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی بیٹھک سمجھی جاتی ہے.

اس ہوٹل کی سب سے بڑی اور دلچسپ خاصیت یہ ہے کہ یہاں گونگے اور بہرے افراد بہت بڑی تعداد میں اکٹھے ہوتے ہیں. چائے کے کپ کے ساتھ یہ لوگ آپس میں اشاروں کی زبان (Sign Language) میں ڈھیروں باتیں کرتے ہیں اور اپنا وقت خوشگوار بناتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ یہ تاریخی ہوٹل اب ان خاص افراد کے لیے ایک غیر رسمی ”کمیونٹی سینٹر“ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے.

 ہوٹل پر باقاعدگی سے آنے والے ایک گاہک نے بتایا کہ وہ اور ان کے دوست ہر اتوار کی صبح 9 بجے یہاں پہنچ جاتے ہیں اور دوپہر تک یہ پررونق محفل جمی رہتی ہے. ان کا کہنا تھا کہ یہاں آ کر دل بہت ہلکا ہو جاتا ہے کیونکہ گھروں میں ان کا وقت تنہائی کی وجہ سے اچھا نہیں گزرتا.انہوں نے مزید بتایا کہ یہاں آنے والے بیشتر افراد پڑھے لکھے اور برسرِروزگار ہیں، جن میں سے کچھ سرکاری یا نجی اداروں میں ملازمتیں کرتے ہیں جبکہ کچھ اپنے ذاتی کاروبار چلا رہے ہیں. چونکہ تمام دوست ایک دوسرے کے قریب ہی رہائش پذیر ہیں، اس لیے وہ اس جگہ ملنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے.

ہوٹل کے مالک نے اشاروں کی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ روایت آج کی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پرانی ہے. ان کے پاس لوگ دور دور کے علاقوں سے صرف چائے پینے اور اپنے جیسے دوستوں سے ملاقات کے لیے آتے ہیں. انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ ہوٹل گونگے بہروں کی اپنی ایک الگ دنیا اور بیٹھک ہے، جہاں آ کر سب اپنے دل کا غبار اور دل کی باتیں اشاروں میں کھل کر بیان کرتے ہیں.

اس چائے خانے پر گزشتہ 40 برسوں سے باقاعدگی سے آنے والے ایک بزرگ شہری نے پرانے وقتوں کے لاہور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کا ماحول آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ پُرسکون اور پرامن تھا.

“ماضی میں جب ہم یہاں آتے تھے تو لوگ سائیکلوں اور گھوڑا گاڑیوں پر سفر کیا کرتے تھے. اس دور میں نہ تو یہ اسمارٹ فون تھے اور نہ ہی اتنی بدامنی تھی. اب دنیا بدل گئی ہے لیکن اس دکان کی محبت نہیں بدلی. آج بھی جب میں اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ یہاں بیٹھ کر گپ شپ کرتا ہوں تو وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا اور یہی اس خاموش محفل کی سب سے بڑی اور اصل خوبصورتی ہے۔”