LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر اسمبلی میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور پاکستان امریکا اور ایران کو مفاہمتی یادداشت پر واپس لانے کیلئے سرگرم ہے: دفترِ خارجہ پنجاب میں دریاؤں کی صورتحال بہتر، مون سون بارشوں کا الرٹ جاری سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا لاہور ہائیکورٹ: جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھارتی ایئر لائنز کیلئے بڑا دھچکا نیویارک میں ’ٹیکس ورلڈ 2026ء‘ نمائش کا انعقاد، پاکستان کی بھرپور شرکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 3 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق جاپان: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی امریکا کے ایک بار پھر ایران پر حملے، درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی میڈیا امریکی فوج نے ایک بار پھر ایران پر فضائی حملے شروع کر دیے امریکا کا ایران کی بحری ناکہ بندی میں مزید 20 تجارتی جہاز واپس موڑنے کا دعویٰ

سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا

Web Desk

30 July 2026

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم اور ہنگامی ملاقات کی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی اور اہم پیغام امریکی صدر تک پہنچانا تھا۔ ملاقاتوں کے دوران سعودی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ سعودی عرب خطے میں ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے، تاہم ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے توانائی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے ‘ریڈ لائن’ عبور کی گئی جس کا جواب دینا ضروری تھا۔ شہزادہ خالد بن سلمان نے امریکی قیادت پر زور دیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران سے کشیدگی بڑھانا چاہتے ہیں جبکہ کشیدگی میں کمی ہی پائیدار حل ہے۔ حوثیوں کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت امریکہ کی براہِ راست مداخلت کی ضرورت نہیں کیونکہ سعودی عرب خود ان سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔