LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ٹرمپ کی معاشی کارکردگی کی منظوری کی شرح تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی پی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست میں گنڈا پور کی واپسی، مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہ ایران میں امریکی ڈالر کی خریداری کے لیے نئے ضوابط نافذ کردیے گئے امریکا خاموشی سے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں میں کمی کر رہا ہے، امریکی ٹی وی کا دعویٰ یران اسرائیل پر حملےکیلئے ایٹم بم بنا رہا ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ حماس دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہے، اسے فوجی طاقت کے ذریعے ہی غیر مسلح کیا جاسکتا ہے: اسرائیلی انٹیلیجنس رپورٹ کراچی: بین الاقوامی خفیہ ایجنسی کی اطلاع پر آن لائن نیٹ ورک کے شکنجے میں پھنسی بچی کو بچا لیا گیا سعودیہ پاکستان ریئل سٹیٹ ایکسپو بزنس کمیونٹی کیلئے گیم چینجر ہے: آصف زرداری اسلام آباد میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث گروہ بے نقاب، 5 ملزم گرفتار ٹرمپ کا ایران پر تیل کی قیمتیں بڑھانے اور جھوٹی خبریں پھیلانے کا الزام پٹرول ایک روپے 60 پیسے فی لٹر سستا، ڈیزل مہنگا ہو گیا کرک میں سی ٹی ڈی کا سرچ آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک، ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید جنوبی افریقہ نے دنیا کی طویل ترین مال بردار ٹرین چلانے کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا اے آئی پر بڑھتا انحصار، برطانیہ کے بارکلے بینک کا 5 ہزار ملازمین فارغ کرنے کا اعلان آئیسکو کی نجکاری کیلئے 10 قومی و بین الاقوامی فریقین کی پری کوالیفکیشن کی منظوری

سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا

Web Desk

30 July 2026

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم اور ہنگامی ملاقات کی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی اور اہم پیغام امریکی صدر تک پہنچانا تھا۔ ملاقاتوں کے دوران سعودی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ سعودی عرب خطے میں ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے، تاہم ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے توانائی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے ‘ریڈ لائن’ عبور کی گئی جس کا جواب دینا ضروری تھا۔ شہزادہ خالد بن سلمان نے امریکی قیادت پر زور دیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران سے کشیدگی بڑھانا چاہتے ہیں جبکہ کشیدگی میں کمی ہی پائیدار حل ہے۔ حوثیوں کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت امریکہ کی براہِ راست مداخلت کی ضرورت نہیں کیونکہ سعودی عرب خود ان سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔