LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت

56 سالہ نیپالی کوہ پیما نے 32 ویں بار ماؤٹ ایورسٹ سر کرکے نیا ریکارڈ بنا ڈالا

Web Desk

18 May 2026

نیپال کے لیجنڈری کوہ پیما شیرپا کامی ریٹا نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو ریکارڈ 32 ویں بار سر کر کے دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور اپنا ہی پچھلا عالمی ریکارڈ توڑ کر ایک نیا اور ناقابلِ تسخیر سنگِ میل قائم کر دیا ہے۔ نیپالی محکمۂ سیاحت نے اس تاریخی کامیابی پر کامی ریٹا اور ان کی ٹیم کو خصوصی مبارکباد پیش کی ہے۔

نیپالی محکمۂ سیاحت کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ہینڈ آؤٹ کے مطابق، 56 سالہ تجربہ کار کوہ پیما کامی ریٹا 17 مئی کی صبح بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم کی رہنمائی کرتے ہوئے دنیا کی بلند ترین چوٹی 8,849 میٹر (29,032 فٹ) کی بلندی پر پہنچے۔

کامی ریٹا کی ماؤنٹ ایورسٹ کے ساتھ محبت کی تاریخ تین دہائیوں پر محیط ہے:انہوں نے زندگی میں پہلی بار 1994ء میں ایورسٹ کو سر کیا تھا۔اس کے بعد سے وہ تقریباً ہر سال باقاعدگی سے اس چوٹی پر پاکستان اور دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کی رہنمائی کے لیے پہنچتے رہے ہیں۔وہ گزشتہ 30 سالوں میں صرف 2014ء، 2015ء اور 2020ء میں چوٹی سے دور رہے، جب برفانی تودے گرنے، زلزلے اور کورونا وبا جیسی مختلف وجوہات کے باعث نیپال حکومت نے ماؤنٹ ایورسٹ کو کوہ پیمائی کے لیے مکمل بند کر دیا تھا۔اس یادگار مہم کے دوران صرف کامی ریٹا نے ہی تاریخ نہیں رقم کی، بلکہ ان کے ساتھ موجود 52 سالہ نیپالی شیرپا خاتون لکھاپا (Lhakpa) نے بھی 11 ویں بار دنیا کی بلند ترین چوٹی کو کامیابی سے سر کیا، جو کسی بھی خاتون کوہ پیما کی جانب سے ایک منفرد اور بڑا اعزاز ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جب سے انسان نے ایورسٹ پر قدم رکھا ہے، تب سے اب تک مجموعی طور پر 8 ہزار سے زائد افراد اس چوٹی کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں، جن میں سے بیشتر مہم جوؤں نے متعدد بار یہ کارنامہ انجام دیا۔ اعداد و شمار کے مطابق، اگر مقامی نیپالی شیرپاؤں (جن کا کام ہی کوہ پیماؤں کی رہنمائی کرنا ہے) کو الگ کر دیا جائے، تو غیر ملکیوں میں سب سے زیادہ بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا ریکارڈ برطانیہ کے نامور کوہ پیما کینٹن کول (Kenton Cool) کے پاس ہے، جنہوں نے اب تک 19 بار ایورسٹ کے افق پر برطانوی پرچم لہرایا ہے۔