LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا، ایران نے ترکیہ اور سعودیہ کو آگاہ کر دیا پیرو میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، سفر کرنے والے تمام 13 افراد ہلاک ایران کا خلیجی ممالک کو امریکا اور اسرائیل کی سہولت کاری پر سخت انتباہ مزید جنگی جہاز نہ ملے تو امریکا یا اسرائیل کے دفاع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: امریکی جنرل نے خبردار کردیا امریکی ویزا بانڈ پروگرام کے حوالے سے اہم فیصلہ میں ایرانی کرنسی کو تباہ کر رہا ہوں، صدر ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر پیغام صدر پزشکیان کا ایرانی قوم کو جنگ کے دوران ثابت قدم رہنے پر خراجِ تحسین محسن نقوی کے خیالات سے کم و بیش اتفاق، اصلاحات کا فورم پارلیمنٹ ہے: خواجہ آصف شکارپور کی قومی شاہراہ پر ہولناک حادثہ، 2 نوجوان جاں بحق، ٹینکر ڈرائیور گرفتار آزاد کشمیر میں حکومت سازی : ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا تیسرا مذاکراتی دور مکمل شکارپور میں ٹول ٹیکس تنازع پر بس ڈرائیور نے ملازم کو کچل دیا ہاکی ٹیسٹ سیریز: گرین شرٹس نے جنوبی کوریا کو مسلسل دوسری بار شکست دے دی نواز شریف پر دھاندلی کا الزام لگاؤ گے تو تاریخ بھی یاد رکھنی ہو گی: رانا ثنا اللہ حمزہ شہباز اہل خانہ کے ساتھ نجی دورے پر یورپ روانہ ہوں گے آزاد کشمیر انتخابات: چیف الیکشن کمشنر کا ووٹرز کے نام پیغام جاری

مزید جنگی جہاز نہ ملے تو امریکا یا اسرائیل کے دفاع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: امریکی جنرل نے خبردار کردیا

Web Desk

1 August 2026

یورپ میں تعینات امریکا کے سینیئر ترین جنرل نے پینٹاگون کو نجی طور پر تحریری طور پر شدید خبردار کیا ہے کہ ان کے پاس اسرائیل کو بیلسٹک میزائل حملوں سے بچانے کے لیے درکار بحری اور فوجی وسائل کی سخت کمی ہو چکی ہے۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی یورپیئن کمانڈ (USEUCOM) کے سربراہ جنرل الیکسس گرینکیوچ نے اس ہفتے پینٹاگون کو ارسال کردہ خط میں واضح کیا کہ اگر انہیں فوری طور پر مزید ایک ڈسٹرائر بحری جہاز فراہم نہ کیا گیا تو مجبوری کی حالت میں انہیں امریکا کی اپنی قومی سیکیورٹی کے دفاع اور اسرائیل کے دفاع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ ایک امریکی دفاعی اہلکار کے مطابق جنرل گرینکیوچ کا یہ سخت پیغام ان تمام سابقہ خبردار کرنے والے اعلیٰ فوجی پیغامات سے مطابقت رکھتا ہے جو اس وقت جاری کیے جاتے ہیں جب ملکی سلامتی کو ایسے بڑے خطرات درپیش ہوں جن پر واشنگٹن کی فوری توجہ درکار ہو۔

اخبار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کے حکم کے بعد امریکی بحریہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات امریکی بحری ڈسٹرائرز، جو طاقتور ریڈارز اور اینٹی میزائل سسٹم سے لیس ہیں، گزشتہ کئی برسوں سے اسرائیل کو ایران اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کے میزائل حملوں سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

یورپیئن کمانڈ کی ذمہ داریوں میں جہاں اسرائیل کی سیکیورٹی کی نگرانی شامل ہے، وہیں اسے نیٹو اتحاد کے تحت ممکنہ روسی پیش قدمی اور مداخلت کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی الرٹ رہنا پڑتا ہے۔ پینٹاگون حکام کے مطابق اس وقت اسپین کے روٹا بیس سے 5 ڈسٹرائرز میں سے جمعے کے روز صرف 2 بحیرہ روم میں تعینات تھے جبکہ 3 روٹا کے اڈے پر موجود تھے۔ دوسری جانب بحیرہ عرب میں ایران کے قریب امریکا کا ایک بڑا بحری بیڑہ موجود ہے جس میں 2 طیارہ بردار جہاز اور 11 ڈسٹرائرز سمیت 15 سے زائد جنگی جہاز شامل ہیں، جبکہ ایک ڈسٹرائر حوثیوں کے حملوں سے تجارتی جہاز رانی کو بچانے کے لیے بحیرہ احمر میں تعینات ہے۔