LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

30 سیکنڈ میں دل کی بیماریوں کا پتا لگانے والا ٹوائلٹ

Web Desk

1 August 2026

جرمن میڈیکل ٹیکنالوجی کمپنی ہیمبرگر میڈیکل نے ایک جدید سمارٹ ٹوائلٹ سیٹ Haru EKG Seat تیار کی ہے جو دل کی دھڑکن کی عام خرابی ایٹریئل فبریلیشن (AFib) کی بروقت نشاندہی کر سکتی ہے۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس ڈیوائس میں 06 لیڈ ECG سینسرز نصب کیے گئے ہیں جو محض 30 سیکنڈ بیٹھنے پر دل کی برقی سرگرمی کا ریکارڈ سمارٹ فون ایپ کو منتقل کر دیتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اس ٹوائلٹ سیٹ کے نتائج ہسپتالوں کے روایتی 12 لیڈ ECG ٹیسٹ کے کافی قریب ہیں۔ طبی ماہرین اور قلبی امراض کی ماہر ڈاکٹر پاری ڈومینک کے مطابق ایٹریئل فبریلیشن کی بروقت تشخیص نہ ہونا فالج اور دیگر مہلک بیماریوں کا باعث بنتا ہے (جس کا تعلق 01 سے 07 فالج کے کیسز سے ہے)، تاہم روزمرہ کے معمولات کے دوران اس غیر محسوس ٹیکنالوجی کے ذریعے دل کے امراض کی باقاعدہ اور فوری مانیٹرنگ ممکن ہو سکے گی۔