ہائی کولیسٹرول: خاموش خطرہ جو دل کو متاثر کرسکتا ہے، بچاؤ کیسے ممکن؟
Web Desk
10 April 2026
طبی ماہرین نے ہائی کولیسٹرول کو ایک ایسا “خاموش قاتل” قرار دیا ہے جو برسوں تک بغیر کسی ظاہری علامت کے جسم میں بڑھتا رہتا ہے اور آخر کار دل کے دورے یا فالج جیسے سنگین خطرات کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کولیسٹرول ایک چکنائی نما مادہ ہے جو جگر کے علاوہ گوشت، انڈوں اور دودھ کی مصنوعات سے حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ ہارمونز اور وٹامن ڈی کی تیاری کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کی زیادتی خون کی شریانوں کو تنگ اور سخت کر دیتی ہے، جسے طبی زبان میں ‘ایتھروسکلروسیس’ کہا جاتا ہے۔
کولیسٹرول کی دو بنیادی اقسام ہیں: ایچ ڈی ایل (HDL) جسے “اچھا” کولیسٹرول کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اضافی چکنائی کو خارج کرتا ہے، اور ایل ڈی ایل (LDL) یا “برا” کولیسٹرول، جو شریانوں میں جمع ہو کر خون کی روانی کو متاثر کرتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک سینے میں درد، سانس کی کمی یا ٹانگوں میں تکلیف جیسی علامات ظاہر ہوں، تب تک یہ بیماری پیچیدہ صورت اختیار کر چکی ہوتی ہے۔ اسی لیے ذیابیطس، بلڈ پریشر اور موٹاپے کے شکار افراد کو سال میں کم از کم ایک بار ‘لپڈ پروفائل ٹیسٹ’ کروانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
بچاؤ کے لیے ماہرین نے طرزِ زندگی میں تبدیلیوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرخ گوشت اور چکنائی والی اشیاء کا استعمال کم کر کے فائبر سے بھرپور غذاؤں مثلاً جئی، دالوں اور پھلوں کو ترجیح دی جائے۔ اس کے علاوہ، روزانہ کم از کم 30 منٹ کی تیز چہل قدمی یا ہفتے میں 150 منٹ کی ورزش کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ طبی معائنہ اور صحت مند عادات ہی اس خاموش خطرے سے محفوظ رہنے کی ضمانت ہیں۔
متعلقہ عنوانات
اسلام آباد: شدید بارشوں اور سیلاب سے متعدی امراض پھیلنے کا خدشہ
17 June 2026
سندھ میں خسرہ کی وبا شدت اختیار کرگئی، 53 بچے جاں بحق
16 June 2026
وزن اٹھانا انسانوں کیلئے کتنا مفید ہے؟
16 June 2026
سائنس دانوں نے پہلی بار زندہ بافتوں میں مائیکرو پلاسٹکس کا سراغ لگا لیا
16 June 2026
ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف
16 June 2026
مائیگرین کی دوا حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق
15 June 2026
شہر قائد میں ایک اور ایم پاکس کا متاثرہ مریض رپورٹ، تعداد 10 ہو گئی
15 June 2026
چینی غذا سے مکمل نکال دینا معدے اور جسمانی صحت کیلئے مضر ہوسکتا ہے
14 June 2026