LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا 8 اگست سے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان سرکاری حج اسکیم 2027 کی درخواستوں کی وصولی رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر، 5 اگست تک بارش کی پیشگوئی ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی وزیراعظم کی آزاد کشمیر الیکشن میں برتری پر نوازشریف، کامیاب امیدواروں کو مبارکباد خلیجی ممالک ٹرمپ کی ایران پالیسی سے سخت پریشان اور مایوس ہیں: امریکی اخبار آزاد کشمیر الیکشن کا دوسرا مرحلہ بھی ن لیگ کے نام، 14 سیٹیں جیت لیں، پیپلزپارٹی 5 پر کامیاب تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے: دریائے سندھ میں 245,000 کیوسِک تک بہاؤ کا امکان، نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا: سپریم کورٹ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 2700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ سوات: کبل خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی، حملے کا مقدمہ درج ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کے پی پولیس میں انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ الگ کرنے کا فیصلہ امریکی ریاست آئیڈاہو میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کر لی

ہائی کولیسٹرول: خاموش خطرہ جو دل کو متاثر کرسکتا ہے، بچاؤ کیسے ممکن؟

Web Desk

10 April 2026

طبی ماہرین نے ہائی کولیسٹرول کو ایک ایسا “خاموش قاتل” قرار دیا ہے جو برسوں تک بغیر کسی ظاہری علامت کے جسم میں بڑھتا رہتا ہے اور آخر کار دل کے دورے یا فالج جیسے سنگین خطرات کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کولیسٹرول ایک چکنائی نما مادہ ہے جو جگر کے علاوہ گوشت، انڈوں اور دودھ کی مصنوعات سے حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ ہارمونز اور وٹامن ڈی کی تیاری کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کی زیادتی خون کی شریانوں کو تنگ اور سخت کر دیتی ہے، جسے طبی زبان میں ‘ایتھروسکلروسیس’ کہا جاتا ہے۔

کولیسٹرول کی دو بنیادی اقسام ہیں: ایچ ڈی ایل (HDL) جسے “اچھا” کولیسٹرول کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اضافی چکنائی کو خارج کرتا ہے، اور ایل ڈی ایل (LDL) یا “برا” کولیسٹرول، جو شریانوں میں جمع ہو کر خون کی روانی کو متاثر کرتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک سینے میں درد، سانس کی کمی یا ٹانگوں میں تکلیف جیسی علامات ظاہر ہوں، تب تک یہ بیماری پیچیدہ صورت اختیار کر چکی ہوتی ہے۔ اسی لیے ذیابیطس، بلڈ پریشر اور موٹاپے کے شکار افراد کو سال میں کم از کم ایک بار ‘لپڈ پروفائل ٹیسٹ’ کروانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

بچاؤ کے لیے ماہرین نے طرزِ زندگی میں تبدیلیوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرخ گوشت اور چکنائی والی اشیاء کا استعمال کم کر کے فائبر سے بھرپور غذاؤں مثلاً جئی، دالوں اور پھلوں کو ترجیح دی جائے۔ اس کے علاوہ، روزانہ کم از کم 30 منٹ کی تیز چہل قدمی یا ہفتے میں 150 منٹ کی ورزش کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ طبی معائنہ اور صحت مند عادات ہی اس خاموش خطرے سے محفوظ رہنے کی ضمانت ہیں۔