LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

ہائی کولیسٹرول: خاموش خطرہ جو دل کو متاثر کرسکتا ہے، بچاؤ کیسے ممکن؟

Web Desk

10 April 2026

طبی ماہرین نے ہائی کولیسٹرول کو ایک ایسا “خاموش قاتل” قرار دیا ہے جو برسوں تک بغیر کسی ظاہری علامت کے جسم میں بڑھتا رہتا ہے اور آخر کار دل کے دورے یا فالج جیسے سنگین خطرات کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کولیسٹرول ایک چکنائی نما مادہ ہے جو جگر کے علاوہ گوشت، انڈوں اور دودھ کی مصنوعات سے حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ ہارمونز اور وٹامن ڈی کی تیاری کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کی زیادتی خون کی شریانوں کو تنگ اور سخت کر دیتی ہے، جسے طبی زبان میں ‘ایتھروسکلروسیس’ کہا جاتا ہے۔

کولیسٹرول کی دو بنیادی اقسام ہیں: ایچ ڈی ایل (HDL) جسے “اچھا” کولیسٹرول کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اضافی چکنائی کو خارج کرتا ہے، اور ایل ڈی ایل (LDL) یا “برا” کولیسٹرول، جو شریانوں میں جمع ہو کر خون کی روانی کو متاثر کرتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک سینے میں درد، سانس کی کمی یا ٹانگوں میں تکلیف جیسی علامات ظاہر ہوں، تب تک یہ بیماری پیچیدہ صورت اختیار کر چکی ہوتی ہے۔ اسی لیے ذیابیطس، بلڈ پریشر اور موٹاپے کے شکار افراد کو سال میں کم از کم ایک بار ‘لپڈ پروفائل ٹیسٹ’ کروانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

بچاؤ کے لیے ماہرین نے طرزِ زندگی میں تبدیلیوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرخ گوشت اور چکنائی والی اشیاء کا استعمال کم کر کے فائبر سے بھرپور غذاؤں مثلاً جئی، دالوں اور پھلوں کو ترجیح دی جائے۔ اس کے علاوہ، روزانہ کم از کم 30 منٹ کی تیز چہل قدمی یا ہفتے میں 150 منٹ کی ورزش کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ طبی معائنہ اور صحت مند عادات ہی اس خاموش خطرے سے محفوظ رہنے کی ضمانت ہیں۔