LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سٹار لنک صارفین کی جاسوسی کا انکشاف، اسرائیلی ایڈ ٹیک کمپنی پر سنگین الزامات امارات میں مصنوعی ذہانت اور جدید فضائی ٹرانسپورٹ کے نئے منصوبوں پر بڑی پیشرفت حوثی ملیشیا کو شکست دینے کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، تہران میں ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور

ہائی کولیسٹرول: خاموش خطرہ جو دل کو متاثر کرسکتا ہے، بچاؤ کیسے ممکن؟

Web Desk

10 April 2026

طبی ماہرین نے ہائی کولیسٹرول کو ایک ایسا “خاموش قاتل” قرار دیا ہے جو برسوں تک بغیر کسی ظاہری علامت کے جسم میں بڑھتا رہتا ہے اور آخر کار دل کے دورے یا فالج جیسے سنگین خطرات کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کولیسٹرول ایک چکنائی نما مادہ ہے جو جگر کے علاوہ گوشت، انڈوں اور دودھ کی مصنوعات سے حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ ہارمونز اور وٹامن ڈی کی تیاری کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کی زیادتی خون کی شریانوں کو تنگ اور سخت کر دیتی ہے، جسے طبی زبان میں ‘ایتھروسکلروسیس’ کہا جاتا ہے۔

کولیسٹرول کی دو بنیادی اقسام ہیں: ایچ ڈی ایل (HDL) جسے “اچھا” کولیسٹرول کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اضافی چکنائی کو خارج کرتا ہے، اور ایل ڈی ایل (LDL) یا “برا” کولیسٹرول، جو شریانوں میں جمع ہو کر خون کی روانی کو متاثر کرتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک سینے میں درد، سانس کی کمی یا ٹانگوں میں تکلیف جیسی علامات ظاہر ہوں، تب تک یہ بیماری پیچیدہ صورت اختیار کر چکی ہوتی ہے۔ اسی لیے ذیابیطس، بلڈ پریشر اور موٹاپے کے شکار افراد کو سال میں کم از کم ایک بار ‘لپڈ پروفائل ٹیسٹ’ کروانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

بچاؤ کے لیے ماہرین نے طرزِ زندگی میں تبدیلیوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرخ گوشت اور چکنائی والی اشیاء کا استعمال کم کر کے فائبر سے بھرپور غذاؤں مثلاً جئی، دالوں اور پھلوں کو ترجیح دی جائے۔ اس کے علاوہ، روزانہ کم از کم 30 منٹ کی تیز چہل قدمی یا ہفتے میں 150 منٹ کی ورزش کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ طبی معائنہ اور صحت مند عادات ہی اس خاموش خطرے سے محفوظ رہنے کی ضمانت ہیں۔