LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید

سکھر میں ماہی گیر نے سمندر سے لاطینی امریکا کی منفرد مچھلی پکڑ لی، سب حیران

Web Desk

6 January 2026

سکھر میں ایک ماہی گیر کے ہاتھوں پکڑی گئی غیر معمولی مچھلی نے نہ صرف عوام بلکہ ماہرین کی بھی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق 4 جنوری کو سکھر سے کراچی فش ہاربر لائی جانے والی ایک عجیب مچھلی کی تحقیق کے بعد شناخت ایمازون سیل فن کیٹ فش کے طور پر کی گئی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمازون سیل فن کیٹ فش کا اصل تعلق لاطینی امریکا سے ہے اور اسے ایک حملہ آور غیر ملکی نسل (Invasive Species) تصور کیا جاتا ہے، جو مقامی آبی حیات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ادارے کے مطابق سندھ اور زیریں پنجاب کے دریائی اور آبی علاقوں میں غیر ملکی مچھلیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو مقامی مچھلیوں کے قدرتی مسکن، افزائش اور ماحولیاتی توازن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ غیر ملکی آبی حیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی اور اقدامات کیے جائیں تاکہ مقامی آبی نظام کو محفوظ رکھا جا سکے۔