LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک

سکھر میں ماہی گیر نے سمندر سے لاطینی امریکا کی منفرد مچھلی پکڑ لی، سب حیران

Web Desk

6 January 2026

سکھر میں ایک ماہی گیر کے ہاتھوں پکڑی گئی غیر معمولی مچھلی نے نہ صرف عوام بلکہ ماہرین کی بھی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق 4 جنوری کو سکھر سے کراچی فش ہاربر لائی جانے والی ایک عجیب مچھلی کی تحقیق کے بعد شناخت ایمازون سیل فن کیٹ فش کے طور پر کی گئی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمازون سیل فن کیٹ فش کا اصل تعلق لاطینی امریکا سے ہے اور اسے ایک حملہ آور غیر ملکی نسل (Invasive Species) تصور کیا جاتا ہے، جو مقامی آبی حیات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ادارے کے مطابق سندھ اور زیریں پنجاب کے دریائی اور آبی علاقوں میں غیر ملکی مچھلیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو مقامی مچھلیوں کے قدرتی مسکن، افزائش اور ماحولیاتی توازن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ غیر ملکی آبی حیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی اور اقدامات کیے جائیں تاکہ مقامی آبی نظام کو محفوظ رکھا جا سکے۔