LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا، ایران نے ترکیہ اور سعودیہ کو آگاہ کر دیا پیرو میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، سفر کرنے والے تمام 13 افراد ہلاک ایران کا خلیجی ممالک کو امریکا اور اسرائیل کی سہولت کاری پر سخت انتباہ مزید جنگی جہاز نہ ملے تو امریکا یا اسرائیل کے دفاع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: امریکی جنرل نے خبردار کردیا امریکی ویزا بانڈ پروگرام کے حوالے سے اہم فیصلہ میں ایرانی کرنسی کو تباہ کر رہا ہوں، صدر ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر پیغام صدر پزشکیان کا ایرانی قوم کو جنگ کے دوران ثابت قدم رہنے پر خراجِ تحسین محسن نقوی کے خیالات سے کم و بیش اتفاق، اصلاحات کا فورم پارلیمنٹ ہے: خواجہ آصف شکارپور کی قومی شاہراہ پر ہولناک حادثہ، 2 نوجوان جاں بحق، ٹینکر ڈرائیور گرفتار آزاد کشمیر میں حکومت سازی : ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا تیسرا مذاکراتی دور مکمل شکارپور میں ٹول ٹیکس تنازع پر بس ڈرائیور نے ملازم کو کچل دیا ہاکی ٹیسٹ سیریز: گرین شرٹس نے جنوبی کوریا کو مسلسل دوسری بار شکست دے دی نواز شریف پر دھاندلی کا الزام لگاؤ گے تو تاریخ بھی یاد رکھنی ہو گی: رانا ثنا اللہ حمزہ شہباز اہل خانہ کے ساتھ نجی دورے پر یورپ روانہ ہوں گے آزاد کشمیر انتخابات: چیف الیکشن کمشنر کا ووٹرز کے نام پیغام جاری

سکھر میں ماہی گیر نے سمندر سے لاطینی امریکا کی منفرد مچھلی پکڑ لی، سب حیران

Web Desk

6 January 2026

سکھر میں ایک ماہی گیر کے ہاتھوں پکڑی گئی غیر معمولی مچھلی نے نہ صرف عوام بلکہ ماہرین کی بھی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق 4 جنوری کو سکھر سے کراچی فش ہاربر لائی جانے والی ایک عجیب مچھلی کی تحقیق کے بعد شناخت ایمازون سیل فن کیٹ فش کے طور پر کی گئی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمازون سیل فن کیٹ فش کا اصل تعلق لاطینی امریکا سے ہے اور اسے ایک حملہ آور غیر ملکی نسل (Invasive Species) تصور کیا جاتا ہے، جو مقامی آبی حیات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ادارے کے مطابق سندھ اور زیریں پنجاب کے دریائی اور آبی علاقوں میں غیر ملکی مچھلیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو مقامی مچھلیوں کے قدرتی مسکن، افزائش اور ماحولیاتی توازن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ غیر ملکی آبی حیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی اور اقدامات کیے جائیں تاکہ مقامی آبی نظام کو محفوظ رکھا جا سکے۔