LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا لندن سٹاک ایکسچینج کا دورہ، معیشت مضبوط بنانے کیلئے بہت محنت کی: خطاب پاکستان 2027 میں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون کانفرنس کی میزبانی کرے گا: احسن اقبال ایک ہفتے میں یوکرینی حملوں سے 41 شہری ہلاک، 274 زخمی ہوئے، روسی سفارت کار روس اور امریکا کے درمیان حل طلب معاملات پر رابطے جلد ہونگے: سرگئی لاوروف چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس اسکیم نفاذ کے ابتدائی مرحلے میں ہے، تمام تکنیکی مشکلات دور کر رہے ہیں: ایف بی آر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کی پیپلز پارٹی سیکریٹریٹ آمد، اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ہنڈرڈ انڈیکس منفی زون میں بند ہوا صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی: فیصل کریم پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری

سکھر میں ماہی گیر نے سمندر سے لاطینی امریکا کی منفرد مچھلی پکڑ لی، سب حیران

Web Desk

6 January 2026

سکھر میں ایک ماہی گیر کے ہاتھوں پکڑی گئی غیر معمولی مچھلی نے نہ صرف عوام بلکہ ماہرین کی بھی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق 4 جنوری کو سکھر سے کراچی فش ہاربر لائی جانے والی ایک عجیب مچھلی کی تحقیق کے بعد شناخت ایمازون سیل فن کیٹ فش کے طور پر کی گئی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمازون سیل فن کیٹ فش کا اصل تعلق لاطینی امریکا سے ہے اور اسے ایک حملہ آور غیر ملکی نسل (Invasive Species) تصور کیا جاتا ہے، جو مقامی آبی حیات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ادارے کے مطابق سندھ اور زیریں پنجاب کے دریائی اور آبی علاقوں میں غیر ملکی مچھلیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو مقامی مچھلیوں کے قدرتی مسکن، افزائش اور ماحولیاتی توازن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ غیر ملکی آبی حیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی اور اقدامات کیے جائیں تاکہ مقامی آبی نظام کو محفوظ رکھا جا سکے۔