LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خطے کی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری رکھیں: وزیراعظم محسن نقوی کا بوئنگ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پی آئی اے کیلئے 16 نئے طیاروں پر پیش رفت اسحاق ڈار 2 روزہ سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچ گئے پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستان نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی سہولتی اراضی کا استعمال تبدیل کرنے پر پابندی ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم

صحت کے شعبے میں اے آئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ

Web Desk

16 July 2026

وفاقی حکومت نے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کے تحت کینسر، دماغی امراض اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی تیز رفتار اور درست تشخیص کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) سے استفادہ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس جدید انقلابی منصوبے کے نفاذ سے ملک کے تقریباً 20 کروڑ شہریوں کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ تشخیصی اخراجات کی مد میں سالانہ اربوں روپے کی بچت متوقع ہے۔ منصوبے کے تحت اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے 1100 سے زائد سرکاری و نجی ہسپتالوں میں اے آئی سسٹم نافذ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے علی بابا گروپ کے سربراہ کو پاکستان آنے کی باضابطہ دعوت دے دی ہے، اور اگلے ماہ دونوں فریقین کے درمیان باقاعدہ معاہدہ متوقع ہے۔ واضح رہے کہ صحت کارڈ پروگرام پر اس وقت وفاق سالانہ 10 ارب، پنجاب 60 ارب، بلوچستان 10 ارب جبکہ خیبرپختونخوا کا صحت سہولت پروگرام 40 ارب روپے سے زائد کے سالانہ اخراجات برداشت کر رہا ہے۔