افغانستان میں غذائی بحران، 90 فیصد بچے متاثر، یونیسیف کی نئی رپورٹ جاری
Web Desk
14 July 2026
اقوام متحدہ کے بچوں کے فلاحی ادارے “یونیسیف” نے افغانستان میں جاری شدید غذائی بحران پر ایک ہنگامی الرٹ جاری کیا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں وسیع غذائی عدم تحفظ، ناقص نظامِ صحت اور صاف پانی کی قلت کے باعث تقریباً 37 لاکھ معصوم بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو چکے ہیں۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق، 90 فیصد افغان بچوں کو روزمرہ کی خوراک میں صحت مند نشوونما کے لیے ضروری اجزاء میسر نہیں، جبکہ فوری علاج اور اضافی خوراک کے محتاج 85 فیصد بچوں کی عمریں دو سال سے بھی کم ہیں۔ اس بحران کے نتیجے میں افغان لڑکوں کے مقابلے میں بچیوں میں جسمانی کمزوری اور لاغر پن کی شرح تشویشناک حد تک بڑھی ہے، جس سے بچوں کی اموات کے خطرات 6 گنا بڑھ چکے ہیں۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں، انتہا پسندانہ نظریاتی ایجنڈے اور انتظامی نااہلی نے عام شہریوں کو بھوک اور افلاس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، جہاں معاشی استحکام اور انسانی جانیں بچانے کے بجائے مسلح گروہوں کی پشت پناہی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
متعلقہ عنوانات
ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی
16 September 2026
ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان
16 September 2026
اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ
16 September 2026
مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والا حوثی ڈرون تباہ
16 September 2026
صومالی صدر کی رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، انسانی خدمات پر تبادلہ خیال
16 September 2026
جاپانی وزیراعظم کا حکمراں جماعت اور کابینہ میں ردوبدل کا اعلان
16 September 2026
روسی حملے روکنے پر یوکرین کا بھی بعض اہداف پر حملے روکنے کا اعلان
16 September 2026
پاکستان کا حوثی حملوں کے خلاف سعودی دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان
16 September 2026