LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ صومالی صدر کی رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، انسانی خدمات پر تبادلہ خیال جاپانی وزیراعظم کا حکمراں جماعت اور کابینہ میں ردوبدل کا اعلان روسی حملے روکنے پر یوکرین کا بھی بعض اہداف پر حملے روکنے کا اعلان پاکستان کا حوثی حملوں کے خلاف سعودی دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان آئندہ چند ماہ میں ایران جنگ بالکل مختلف مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جے ڈی وینس لیتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ڈرون تباہ کر دیا گیا جرمنی میں طیارہ حادثے کا شکار، 3 ڈچ شہری ہلاک کولمبیا میں 5.2 شدت کا زلزلہ امریکی ایوان نمائندگان میں روس پر پابندیاں سخت کرنے کا بل منظور اقوام متحدہ کا مصنوعی ذہانت کے ممکنہ تباہ کن خطرات روکنے کیلئے سخت اقدامات کا مطالبہ

افغانستان میں غذائی بحران، 90 فیصد بچے متاثر، یونیسیف کی نئی رپورٹ جاری

Web Desk

14 July 2026

اقوام متحدہ کے بچوں کے فلاحی ادارے “یونیسیف” نے افغانستان میں جاری شدید غذائی بحران پر ایک ہنگامی الرٹ جاری کیا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں وسیع غذائی عدم تحفظ، ناقص نظامِ صحت اور صاف پانی کی قلت کے باعث تقریباً 37 لاکھ معصوم بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو چکے ہیں۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق، 90 فیصد افغان بچوں کو روزمرہ کی خوراک میں صحت مند نشوونما کے لیے ضروری اجزاء میسر نہیں، جبکہ فوری علاج اور اضافی خوراک کے محتاج 85 فیصد بچوں کی عمریں دو سال سے بھی کم ہیں۔ اس بحران کے نتیجے میں افغان لڑکوں کے مقابلے میں بچیوں میں جسمانی کمزوری اور لاغر پن کی شرح تشویشناک حد تک بڑھی ہے، جس سے بچوں کی اموات کے خطرات 6 گنا بڑھ چکے ہیں۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں، انتہا پسندانہ نظریاتی ایجنڈے اور انتظامی نااہلی نے عام شہریوں کو بھوک اور افلاس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، جہاں معاشی استحکام اور انسانی جانیں بچانے کے بجائے مسلح گروہوں کی پشت پناہی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔