LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران جنگ میں امریکا کو شدید عسکری اور معاشی نقصان پہنچا: امریکی محکمہ دفاع کانگو کے دو سکولوں میں آتشزدگی سے 29 طلبا جاں بحق، 300 گھر خاکستر اسرائیل کا غزہ میں حماس کے ایک کمانڈر کو قتل کرنے کا دعویٰ جمہوریت کی کامیابی کیلئے قانون کی عملداری بنیادی امر ہے: مریم نواز مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کیلئے مثبت پیغام ہے: ترک صدر پنجاب حکومت نے سہیل آفریدی کو سکیورٹی فراہم کر کے ذمہ داری کا ثبوت دیا: سلمان رفیق فلسطینیوں پر مظالم: ناروے کی اسرائیلی آبادکاروں سے تجارت پر پابندی کی تجویز علاقائی کشیدگی: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آج مصر کا دورہ کریں گے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ سعودی عرب کے 3 شہروں پر حوثیوں کے حملے، 13 افراد زخمی سکیورٹی خدشات: شہزادہ ہیری نے دونوں بچوں کو اچانک سکول سے اٹھا لیا یمن کی صورتحال پر گہری نظر، حوثیوں سے براہ راست مذاکرات جاری ہیں: جے ڈی وینس آئین پاکستان تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے: وزیراعظم کا یوم جمہوریہ پر پیغام ایران کا شرائط پوری ہونے تک امریکا سے مذاکرات سے پھر انکار تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا اب ممکن نہیں رہا: ایرانی سپیکر

مینڈک کی آنت میں موجود بیکٹیریا مہلک کینسر کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے

Web Desk

15 July 2026

ایک نئی اور انقلابی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ تر ایمفیبیئنز (جل تھلیوں) کی آنتوں میں پایا جانے والا ایک خاص بیکٹیریا چوہوں میں بڑی آنت کے کینسر (کولوریکٹل کینسر) کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جاپان ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے جاپانی درختی مینڈکوں، فائر بیلی نیوٹ اور گھاس کی چھپکلیوں کے معدے سے بیکٹیریا کی 45 اقسام حاصل کیں، جن میں سے ‘ایونگیلا امیریکانا’ (Evangiella americana) نامی بیکٹیریا نے سب سے حیران کن نتائج دیے۔ سائنسی جریدے ‘گٹ مائیکروبز’ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، جب اس بیکٹیریا کو کینسر زدہ چوہوں کی رگوں میں انجیکشن کے ذریعے داخل کیا گیا تو محض ایک خوراک سے رسولیاں 100 فیصد ختم ہو گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیکٹیریا نہ صرف براہِ راست کینسر کے خلیات پر حملہ کرتا ہے بلکہ جسم کے مدافعتی نظام (Immune System) کو بھی فعال کر دیتا ہے۔ اگر مستقبل میں انسانی آزمائشیں (Human Trials) بھی کامیاب رہیں تو یہ دریافت کینسر کے لاعلاج مریضوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہوگی۔