LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستان نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی سہولتی اراضی کا استعمال تبدیل کرنے پر پابندی ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ایک لاکھ 77 ہزار پوائنٹس کی حد بحال صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی سفارش پر 3سمریوں کی منظوری دے دی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار 2 روزہ دورے پر چین روانہ افغان طالبان کیخلاف قانونی چارہ جوئی، عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ تیار مودی کی نااہلی سے بھارت خواتین کیلئے سب سےغیر محفوظ ملک بن گیا پشاور: تہکال پایان میں گھر میں آتشزدگی، میاں بیوی سمیت 6 افراد جاں بحق

نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ

Web Desk

16 July 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب قوانین میں ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جس کے دوران نیب مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں سننے کے عدالتی دائرہ اختیار پر تفصیلی قانونی بحث ہوئی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف اپیل تو وفاقی آئینی عدالت میں جا سکتی ہے، لیکن اگر ہائیکورٹ ضمانت مسترد کرے تو معاملہ سپریم کورٹ کو سننا چاہیے کیونکہ قانون نے وفاقی آئینی عدالت کو ضمانت کی درخواستیں سننے کا اختیار نہیں دیا۔ اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر سپریم کورٹ ضمانت کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتی ہے تو وہ اپیلیٹ فورم بن جائے گی، جبکہ قانون کے تحت نیب مقدمات کا اپیلیٹ فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب قانون اپیلیٹ فورم کا واضح تعین کر چکا ہے تو سپریم کورٹ ضمانت کے مقدمات میں اپیلیٹ اتھارٹی کیسے بن سکتی ہے؟ وکیل نے جذباتی انداز میں عدالت سے استدعا کی کہ “خدا کے لیے انتظامیہ کے خفیہ مقاصد کے لیے اپنا اختیار سرنڈر نہ کریں اور سپریم کورٹ کا کچھ اختیار باقی رہنے دیں”، جس کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔