نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ
Web Desk
16 July 2026
سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب قوانین میں ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جس کے دوران نیب مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں سننے کے عدالتی دائرہ اختیار پر تفصیلی قانونی بحث ہوئی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف اپیل تو وفاقی آئینی عدالت میں جا سکتی ہے، لیکن اگر ہائیکورٹ ضمانت مسترد کرے تو معاملہ سپریم کورٹ کو سننا چاہیے کیونکہ قانون نے وفاقی آئینی عدالت کو ضمانت کی درخواستیں سننے کا اختیار نہیں دیا۔ اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر سپریم کورٹ ضمانت کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتی ہے تو وہ اپیلیٹ فورم بن جائے گی، جبکہ قانون کے تحت نیب مقدمات کا اپیلیٹ فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب قانون اپیلیٹ فورم کا واضح تعین کر چکا ہے تو سپریم کورٹ ضمانت کے مقدمات میں اپیلیٹ اتھارٹی کیسے بن سکتی ہے؟ وکیل نے جذباتی انداز میں عدالت سے استدعا کی کہ “خدا کے لیے انتظامیہ کے خفیہ مقاصد کے لیے اپنا اختیار سرنڈر نہ کریں اور سپریم کورٹ کا کچھ اختیار باقی رہنے دیں”، جس کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
متعلقہ عنوانات
آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا
9 August 2026
آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست
9 August 2026
نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب
9 August 2026
صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ
9 August 2026
محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا
9 August 2026
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار
9 August 2026
کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال
9 August 2026
اسماء جتک کو دھمکیوں اور اہل خانہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم
9 August 2026