LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال اسماء جتک کو دھمکیوں اور اہل خانہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے اہم فیچر متعارف کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں لگی آگ شدت اختیار کر گئی، ہنگامی حالت نافذ کیف میں روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں 3 سالہ بچہ دادا، دادی سمیت ہلاک پروسٹیٹ کینسر ہڈیوں سے آگے تک پھیل گیا، سابق صدر بائیڈن کو شدید درد کا سامنا ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کیلئے امریکا کو 6 شرائط پیش کر دیں امریکا مفاہمت اختیار کرے، معاہدے کیلئے موجودہ صورتحال بہترین ہے: ایرانی صدر معروف فٹبالر لیونل میسی کے والد 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ

Web Desk

16 July 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب قوانین میں ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جس کے دوران نیب مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں سننے کے عدالتی دائرہ اختیار پر تفصیلی قانونی بحث ہوئی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف اپیل تو وفاقی آئینی عدالت میں جا سکتی ہے، لیکن اگر ہائیکورٹ ضمانت مسترد کرے تو معاملہ سپریم کورٹ کو سننا چاہیے کیونکہ قانون نے وفاقی آئینی عدالت کو ضمانت کی درخواستیں سننے کا اختیار نہیں دیا۔ اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر سپریم کورٹ ضمانت کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتی ہے تو وہ اپیلیٹ فورم بن جائے گی، جبکہ قانون کے تحت نیب مقدمات کا اپیلیٹ فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب قانون اپیلیٹ فورم کا واضح تعین کر چکا ہے تو سپریم کورٹ ضمانت کے مقدمات میں اپیلیٹ اتھارٹی کیسے بن سکتی ہے؟ وکیل نے جذباتی انداز میں عدالت سے استدعا کی کہ “خدا کے لیے انتظامیہ کے خفیہ مقاصد کے لیے اپنا اختیار سرنڈر نہ کریں اور سپریم کورٹ کا کچھ اختیار باقی رہنے دیں”، جس کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔