LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال اسماء جتک کو دھمکیوں اور اہل خانہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے اہم فیچر متعارف

کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس

Web Desk

16 July 2026

وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں ایم اے (MA) پاس تعلیمی قابلیت رکھنے والے شخص کو سوئیپر (خاکروپ) کی ملازمت دینے سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے صوبائی حکومت کی اپیل خارج کر دی ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران ملکی تعلیمی و ملازمت کے نظام پر سخت ریمارکس دیے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “کیا اب ایم اے پاس کرنے والا شخص جھاڑو لگائے گا؟ کسی کو اس بات پر شرم نہیں آتی؟ ایسے نظام کو تو شاباش دینی چاہیے جہاں پڑھا لکھا نوجوان خاکروپ کی نوکری کرنے پر مجبور ہے، جو کہ ایک قومی المیہ ہے”۔ عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ متعلقہ ملازم گزشتہ 10 سال سے ڈیوٹی انجام دے رہا ہے، اس لیے اب اسے نوکری سے برطرف کرنا ناانصافی ہوگی، تاہم حکومت کو چاہیے کہ اسے اس کی تعلیمی قابلیت کے مطابق کسی دوسری مناسب جگہ ایڈجسٹ کرے۔ دورانِ سماعت جب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے صوبے میں اسامیوں کی عدم موجودگی کا عذر پیش کیا تو عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے پوچھا کہ “کیا خیبرپختونخوا اتنا صاف ستھرا ہو گیا ہے کہ وہاں اب سوئیپر کی ضرورت ہی نہیں رہی؟”۔