ایبولا وائرس کی نئی ویکسین کے انسانی آزمائشی مراحل شروع
Web Desk
15 July 2026
آکسفورڈ یونیورسٹی نے ایبولا وائرس کی خطرناک ‘بُنڈی بُگیو’ قسم کے خلاف تیار کی گئی نئی ویکسین کے پہلے انسانی آزمائشی مرحلے (فیز 1 کلینیکل ٹرائل) کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ مہلک وائرس اس وقت جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں شدید تباہی مچا رہا ہے۔ یونیورسٹی کے آکسفورڈ ویکسین گروپ کے سائنس دان ابتدائی مرحلے میں برطانیہ کے 18 سے 55 سال کی عمر کے 50 صحت مند رضاکاروں پر “ChAdOx1 BDBV” نامی ویکسین کی حفاظت، افادیت اور مدافعتی ردِعمل کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ یہ ویکسین اسی جدید وائرل ویکٹر ٹیکنالوجی پر تیار کی گئی ہے جس پر مشہور آکسفورڈ/ایسٹرازینیکا کووڈ-19 ویکسین بنائی گئی تھی، جس کے باعث ہنگامی ضرورت پڑنے پر اس کی بڑے پیمانے پر تیاری محض چند ہفتوں میں ممکن ہے۔ ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (SII) نے اس ویکسین کی 6 لاکھ 20 ہزار خوراکیں پہلے ہی ذخیرہ کر لی ہیں، جبکہ آکسفورڈ میں جاری آزمائشی مرحلے کے لیے مزید 4 ہزار تحقیقی خوراکیں بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔
متعلقہ عنوانات
مینڈک کی آنت میں موجود بیکٹیریا مہلک کینسر کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے
15 July 2026
اپریل 2027 تک ڈبلیو ایچ او میچیورٹی لیول 3 حاصل کر لیں گے: مصطفیٰ کمال
15 July 2026
افغانستان میں غذائی بحران، 90 فیصد بچے متاثر، یونیسیف کی نئی رپورٹ جاری
14 July 2026
کراچی: ایک ہی خاندان کے 4 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق
14 July 2026
پاکستان کی فارما صنعت میں 1 ارب ڈالر کی فوری سرمایہ کاری کا امکان
13 July 2026
بلوچستان میں سات روزہ انسداد پولیو مہم آج سے شروع
13 July 2026
پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک، 2050 تک آبادی 40 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ
12 July 2026
امریکی ریزیڈنسی پروگرام میں پاکستانی ڈاکٹرز نے بھارتیوں کو پیچھے چھوڑ دیا
12 July 2026