LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال اسماء جتک کو دھمکیوں اور اہل خانہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے اہم فیچر متعارف

لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ

Web Desk

16 July 2026

لیبیا کے مشرقی ساحلی شہر طبرق کے نزدیک جزیرہ بردعہ کے قریب یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے سے خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 50 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے ہیں۔ مشرقی لیبین کوسٹ گارڈز کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والی غیر محفوظ کشتی پر تقریباً 60 افراد سوار تھے، جن میں سے محض 10 افراد تیر کر جزیرے تک پہنچنے اور اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو سکے، جبکہ باقی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ واضح رہے کہ 2011 میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لیبیا شدید بدامنی کا شکار ہے، تاہم یہ ملک افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے جنگ زدہ اور غریب علاقوں سے فرار ہونے والوں کے لیے بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے کا سب سے بڑا گڑھ بن چکا ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین (IOM) کے مطابق، انسانی سمگلروں کی جانب سے ناکارہ کشتیوں کے استعمال کے باعث صرف رواں سال اب تک سینکڑوں اور گزشتہ برس 1,300 سے زائد افراد اس خطرناک سمندری راستے کی نذر ہو چکے ہیں۔