LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ایک لاکھ 77 ہزار پوائنٹس کی حد بحال صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی سفارش پر 3سمریوں کی منظوری دے دی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار 2 روزہ دورے پر چین روانہ افغان طالبان کیخلاف قانونی چارہ جوئی، عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ تیار مودی کی نااہلی سے بھارت خواتین کیلئے سب سےغیر محفوظ ملک بن گیا پشاور: تہکال پایان میں گھر میں آتشزدگی، میاں بیوی سمیت 6 افراد جاں بحق پنجاب اسمبلی میں پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر تقریب پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق بھارتی میڈیا مولانا فضل الرحمان کے بیان کو پاکستان کیخلاف استعمال کر رہا ہے،طارق فضل چوہدری مراکش کے امریکی صدر کے حمایت یافتہ غزہ بورڈ آف پیس کے معاہدے پر دستخط ایرانی چیمبر کا صدر مسعود پزشکیان سے باضابطہ ملک میں جنگی حالت کا اعلان کرنے کا مطالبہ سعودی شہر ریاض میں گیس سلینڈر کا دھماکا، 6 پاکستانی جاں بحق

لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ

Web Desk

16 July 2026

لیبیا کے مشرقی ساحلی شہر طبرق کے نزدیک جزیرہ بردعہ کے قریب یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے سے خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 50 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے ہیں۔ مشرقی لیبین کوسٹ گارڈز کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والی غیر محفوظ کشتی پر تقریباً 60 افراد سوار تھے، جن میں سے محض 10 افراد تیر کر جزیرے تک پہنچنے اور اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو سکے، جبکہ باقی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ واضح رہے کہ 2011 میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لیبیا شدید بدامنی کا شکار ہے، تاہم یہ ملک افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے جنگ زدہ اور غریب علاقوں سے فرار ہونے والوں کے لیے بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے کا سب سے بڑا گڑھ بن چکا ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین (IOM) کے مطابق، انسانی سمگلروں کی جانب سے ناکارہ کشتیوں کے استعمال کے باعث صرف رواں سال اب تک سینکڑوں اور گزشتہ برس 1,300 سے زائد افراد اس خطرناک سمندری راستے کی نذر ہو چکے ہیں۔