LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال اسماء جتک کو دھمکیوں اور اہل خانہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے اہم فیچر متعارف

ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس

Web Desk

16 July 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کا مستقل حل فوجی طاقت نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتی معاہدہ ہے۔ ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں انہوں نے ایران سے مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس مسلسل اور بے نتیجہ بمباری کے علاوہ کوئی حقیقت پسندانہ متبادل موجود نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں زمینی فوج بھیجنے پر غور کرنے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے اپنی فوج نہیں بھیجے گا؛ اگر ایرانی عوام اپنے سیاسی نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا ذاتی فیصلہ ہونا چاہیے۔ جے ڈی وینس نے زور دیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ ایک قلیل مدتی ہدف ہے، جبکہ واشنگٹن کی بنیادی ترجیح آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو کھلا رکھنا اور دنیا بھر میں تیل و گیس کی بلاتعطل ترسیل یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے انکشاف بھی کیا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران کے ساتھ ممکنہ امریکی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکا میں بھاری فنڈنگ سے لابی مہم چلائی، تاہم وہ غیر ملکی اثر و رسوخ کے سامنے جھکنے کے بجائے صرف امریکی مفادات کو ترجیح دیں گے۔