LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں امریکا نے ڈیل کے تحت کیےگئے وعدے پورے نہ کیے تو مفاہمتی یادداشت پر عمل ترک کردیں گے: ایران چین میں سمندری طوفان باوی کا دوسرا وار، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور، پروازیں اور ٹرینیں معطل امریکی افواج نے حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا، ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں بلوچستان میں تاریخی انتظامی اصلاحات، 4 نئے ڈویژن اور 5 نئے اضلاع قائم جوہری ہتھیار ختم کرنے ہیں تو آغاز امریکا اور اس کے اتحادیوں سے کریں؛ شمالی کوریا نائب وزیراعظم کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، امریکا-ایران کشیدگی میں اضافے پر اظہارتشویش وینزویلا زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 333 ہوگئی؛ 17 ہزار افراد بے گھر یورپ کی آبنائے ہرمز پر جہازوں سے ’رضاکارانہ‘ نیویگیشن فیس لینے کی تجویز

یوپین اسپیس ایجنسی نے جولائی کی پکچر آف دی منتھ جاری

Web Desk

12 July 2026

یورپی خلائی ایجنسی (ESA) نے جولائی 2026 کی ’پکچر آف دی منتھ‘ کے طور پر جیمز ویب خلائی دوربین کی جانب سے لی گئی ایک انتہائی حیرت انگیز تصویر جاری کی ہے، جس میں کائنات کے طاقتور ترین مظاہر میں سے ایک کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، تصویر میں برج کولمبا میں واقع MACS J0553.4−3342 نامی دو دیوہیکل کہکشانی جھرمٹوں کے باہمی انضمام (Collision) کو دکھایا گیا ہے، جو زمین سے تقریباً 4.4 ارب نوری سال کی مسافت پر واقع ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں طویل فاصلوں کا مشاہدہ دراصل کائنات کے ماضی میں جھانکنے کے مترادف ہے، اس لیے جیمز ویب نے اس جھرمٹ کو اس حالت میں دیکھا ہے جب اس کی روشنی نے اربوں سال پہلے زمین کی طرف اپنا سفر شروع کیا تھا۔ اس تصویر میں ‘گریویٹیشنل لینسنگ’ (Gravitational Lensing) کا اثر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں شدید کششِ ثقل کے باعث پس منظر کی دور دراز کہکشاؤں کی روشنی مڑ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے مشاہدات سے کائنات کی ابتدائی تاریخ، کہکشاؤں کی تشکیل اور ان کے ارتقائی سفر کو سمجھنے میں غیر معمولی مدد ملے گی۔