LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت ایران کا متحدہ عرب امارات کا ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ غیر قانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار، 76 کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور، ملکی سیاست پر گفتگو عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان

ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے ملازمین کو نوکری سے برطرف کر دیا جائے گا

Web Desk

10 July 2026

بھارتی ریاست آسام کی حکومت نے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن سخت کرتے ہوئے نیا قانون لانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق، آسام حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے افراد کو تمام سرکاری فلاحی اسکیموں کے فوائد سے محروم کر دیا جائے گا، جبکہ اس عمل میں ملوث سرکاری ملازمین کو نوکری سے برطرف کر دیا جائے گا۔ اس قانون کے حوالے سے آسام کی اسمبلی میں وزیر خزانہ جینتا مالاباروا کی جانب سے پیش کیے گئے مالیاتی سال 2026-27 کے بجٹ کے دوران تفصیلات بتائی گئیں، جس کی بعد میں وزیر اعلیٰ ہیمانتا بسوا شرما نے پریس کانفرنس کے دوران باقاعدہ توثیق کی۔ وزیر اعلیٰ شرما کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بھی سرکاری ملازم ایک سے زائد شادیوں میں ملوث پایا گیا تو حکومت اسے فوری نوکری سے برخاست کر دے گی۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ متعدد شادیوں کے ساتھ ساتھ اگر کسی بھی شہری کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ سامنے آیا، تو وہ بھی حکومت کی جانب سے دی جانے والی فلاحی اسکیموں کا اہل نہیں رہے گا۔