LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور ایران کا 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق مغرب ممالک نے روسی تجارتی جہاز قبضے میں لئے تو بھرپور جواب دیں گے: پوتن مال روڈ واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ 27 ستمبر کو بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے، طلال چوہدری پاکستان، بیلاروس کا اقتصادی و تجارتی تعاون نئی سطح پر لے جانے پر اتفاق امریکی فوج ہماری توقع سے کہیں زیادہ کمزور نکلی: مشیر ایرانی کمانڈر کا بڑا دعویٰ اسحاق ڈار کی حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثی حملہ قابلِ مذمت: ترجمان دفتر خارجہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی قیادت سے اہم ملاقات، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا خصوصی پیغام پہنچا دیا نوجوان پاکستان کا انمول سرمایہ اور روشن مستقبل کے معمار ہیں: صدر، وزیراعظم ٹرمپ نے امریکا کو ایک غیر ضروری اور خطرناک جنگ میں جھونک دیا: چک شومر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں تیزی آ گئی: امریکی حکام کا دعویٰ بلوچستان کے اضلاع ژوب اور چمن میں 4.8 شدت زلزلے کے جھٹکے ایران کے حوالے سے صورتحال بہتر، امریکا کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے: ٹرمپ چین کا بھارت کے غیر قانونی قائم کردہ ’’اروناچل پردیش‘‘ کو تسلیم کرنے سے انکار سہ فریقی سکیورٹی معاہدہ آسٹریلیا کو مزید غیر محفوظ بنا دے گا: سابق وزیراعظم میلکم ٹرن

امریکی افواج نے حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا، ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں

Web Desk

12 July 2026

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے اندر اور آبنائے ہرمز کے اطراف میں فوجی اہداف کے خلاف حملوں کے ایک نئے سلسلے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے قبرص کے پرچم بردار ایک تجارتی کنٹینر جہاز پر مبینہ حملے کے بعد صدر کی ہدایت پر کی گئی ہے۔ اس مبینہ حملے کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، آگ بھڑک اٹھی اور عملے کا ایک رکن لاپتہ ہو گیا۔ سینٹکام کا مؤقف ہے کہ ایران کو ماضی میں طے شدہ مفاہمتی یادداشتوں پر عمل کرنے کے متعدد مواقع دیے گئے مگر تہران اپنا رویہ بدلنے میں ناکام رہا۔ دوسری جانب، ایرانی سرکاری میڈیا اور مہر خبر رساں ادارے نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے جنوبی شہر چابہار کے قریب، خلیج فارس کے جزیرہ قشم، بوشہر اور عسلویہ میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ابھی تک ایرانی حکام کی جانب سے ان حملوں کی نوعیت اور نقصانات کے حوالے سے کوئی حتمی یا تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے