LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں امریکا نے ڈیل کے تحت کیےگئے وعدے پورے نہ کیے تو مفاہمتی یادداشت پر عمل ترک کردیں گے: ایران چین میں سمندری طوفان باوی کا دوسرا وار، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور، پروازیں اور ٹرینیں معطل امریکی افواج نے حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا، ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں بلوچستان میں تاریخی انتظامی اصلاحات، 4 نئے ڈویژن اور 5 نئے اضلاع قائم جوہری ہتھیار ختم کرنے ہیں تو آغاز امریکا اور اس کے اتحادیوں سے کریں؛ شمالی کوریا نائب وزیراعظم کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، امریکا-ایران کشیدگی میں اضافے پر اظہارتشویش وینزویلا زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 333 ہوگئی؛ 17 ہزار افراد بے گھر یورپ کی آبنائے ہرمز پر جہازوں سے ’رضاکارانہ‘ نیویگیشن فیس لینے کی تجویز دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ اور سندھ کی روح ہے، اس پر جارحیت ملک پر جارحیت ہوگی، مراد علی شاہ امریکا: نو دریافت شدہ قدیم باقیات امریکی تاریخ بدل سکتی ہیں

امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت

Web Desk

12 July 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنے اعلیٰ ترین وفد بشمول نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف، مارکو روبیو اور جیرڈ کشنر کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی اہم ہدایت جاری کر دی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے نے اعلیٰ حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کے قریبی مشیروں سے غیر رسمی رابطے کیے ہیں، جن میں تہران کی جانب سے سفارتی مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنے کی شدید خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، ایرانی وفد نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہاز پر ہونے والے حالیہ حملے کو ایک بڑی ‘غلطی’ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائی ایران کے اندرونی سخت گیر حلقوں نے جاری امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے کی تھی۔ دوسری جانب، واشنگٹن نے تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی سطح پر اس غلطی کا باضابطہ اعتراف کرے، جبکہ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے دوبارہ کوئی بھی جارحانہ کارروائی کی گئی تو امریکا اپنی پوری فوجی اور اقتصادی طاقت کے ساتھ اس کا فیصلہ کن جواب دے گا۔