LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینی خاندانوں کے گھروں کا محاصرہ بادامی باغ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ، 2 پولیس اہلکار شہید وزیراعظم شہباز شریف سے ناروے کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پنجاب حکومت کا انتظامی اخراجات کم کرنے کیلئے 101 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ اسحاق ڈار سے صدر ن لیگ آزاد کشمیر کی ملاقات، حکومت سازی سے متعلق امور پر گفتگو ناروے کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس 17 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ براڈ پیک حادثے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام جناح-1 رکھ دیا گیا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں گھروں کو تباہ اور نذرِ آتش کر رہی ہے: لبنانی میڈیا ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی مسلسل 3 ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس

بلوچستان میں تاریخی انتظامی اصلاحات، 4 نئے ڈویژن اور 5 نئے اضلاع قائم

Web Desk

12 July 2026

بلوچستان حکومت نے صوبے کے انتظامی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے 4 نئے ڈویژن، 5 نئے اضلاع سمیت متعدد نئی سب ڈویژنز، تحصیلیں اور سب تحصیلیں قائم کر دی ہیں۔ محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، ان انقلابی تبدیلیوں کے بعد بلوچستان میں ڈویژنز کی تعداد 7 سے بڑھ کر 11 اور اضلاع کی تعداد 36 سے بڑھ کر 41 ہو گئی ہے۔ بلوچستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت موجودہ ضلع کوئٹہ کو ریلوے ٹریک کی بنیاد پر ‘کوئٹہ ایسٹ’ اور ‘کوئٹہ ویسٹ’ میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، قلات ڈویژن کو ختم کر کے اس کی جگہ خضدار اور لسبیلہ کے نئے ڈویژنز بنائے گئے ہیں، جبکہ سابقہ سبی ڈویژن کا نام تبدیل کر کے ‘سیوی ڈویژن’ رکھ دیا گیا ہے۔ وڈھ اور تمپ کو بھی نئے اضلاع کا درجہ دے دیا گیا ہے جبکہ کوہ سلیمان کے نام سے نیا ڈویژن بھی قائم کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ نئی انتظامی تقسیم اور حد بندیوں پر ایک ماہ کے اندر عملدرآمد مکمل کیا جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد عوام کو سرکاری خدمات کی بہتر فراہمی اور مقامی سطح پر گورننس کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔