LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنا ختم نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمان

پاکستان میں 60 دن کے اندر ادویات پر بارکوڈ متعارف کرایا جائے گا، مصطفیٰ کمال

Web Desk

27 June 2026

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملک میں ادویات کے معیار کو یقینی بنانے اور جعلی ادویات کے تدارک کے لیے ایک بڑے تزویراتی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آئندہ 60 روز کے اندر ادویات پر جدید بارکوڈ سسٹم متعارف کرا دیا جائے گا، جس کے لیے وزارت صحت اور متعلقہ اداروں کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PPMA) کے اہم دورے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے انکشاف کیا کہ فارما انڈسٹری کی ترقی کے لیے پاکستان میں 17 اور 18 جولائی کو ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پاک-چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں اب تک 150 مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے اپنی رجسٹریشن کروا لی ہے، جبکہ چین کی 100 سے زائد نامور فارماسیوٹیکل کمپنیاں اس ایونٹ میں فعال شرکت کے لیے پاکستان آ رہی ہیں۔

سید مصطفیٰ کمال نے حکومت کی اقتصادی اور صنعتی ترجیحات کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے فارما سیکٹر میں بڑے پیمانے پر چینی سرمایہ کاری لانے کے لیے پرعزم ہیں؛ تاہم حکومت کی ترجیح پہلے دن سے یہ ہے کہ رسمی مفاہمت ناموں (MoUs) پر وقت ضائع کرنے کے بجائے براہِ راست ٹھوس کاروباری معاہدوں پر جایا جائے، جبکہ کانفرنس کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان ورچوئل میٹنگز کا سلسلہ کانفرنس کے آغاز سے پہلے ہی شروع ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے ملک کی موجودہ پیداواری صلاحیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی ضرورت کی 85 فیصد ادویات خود بناتا ہے، لیکن ان ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا 99 فیصد خام مال (API) ہمیں چین سمیت دیگر ممالک سے امپورٹ کرنا پڑتا ہے۔ خام مال کی یہ مکمل درآمد ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اس لیے امپورٹ بل کو کم کرنے کے لیے ہمیں یہ خام مال اب خود تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

وفاقی وزیرِ صحت نے مزید کہا کہ وہ اس تاریخی کانفرنس سے قبل فارما انڈسٹری کو حکومت کے اہداف، مراعات اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کرنے کے لیے خود مینوفیکچررز کے پاس آئے ہیں تاکہ مقامی صنعت اس تزویراتی عمل کا ایک فعال حصہ بن سکے۔ ادویات کے معیار پر عوامی تحفظات کا کھل کر تذکرہ کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں یہ عام پرسیپشن (رائے عامہ) پائی جاتی ہے کہ سر درد کی جو دوا دبئی سے آتی ہے وہ فوری اثر کرتی ہے جبکہ مقامی پاکستانی دوا اثر نہیں کرتی؛ ہو سکتا ہے کہ یہ رائے سو فیصد درست نہ ہو لیکن یہ عوامی تاثر بہرحال موجود ہے جسے دور کرنا ہوگا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ دنیا بھر میں جعلی ادویات کی اسمگلنگ اور فروخت ایک اربوں ڈالر کی ہولناک انڈسٹری بن چکی ہے، اسی لیے پاکستان میں 60 دن کے اندر بارکوڈ سسٹم کا نفاذ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ ہر دوا کی مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کی ڈیجیٹل ٹریکنگ کی جا سکے اور شہریوں کو صرف معیاری و مستند ادویات کی فراہمی ممکن ہو۔