LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ

فون سے اسکرین شاٹ محفوظ کرنا یادداشت کمزور کر سکتا ہے: تحقیق

Web Desk

19 August 2026

موبائل فون سے کسی اہم لمحے کی تصویر بنانا یا سکرین شاٹ محفوظ کرنا بظاہر چیزوں کو یاد رکھنے میں مددگار معلوم ہوتا ہے، تاہم ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایسا کرنے سے انسانی دماغ کی معلومات کو یاد رکھنے کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔

امریکا کی بِنگہیمٹن یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات سے وابستہ محققین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق، جو افراد کسی چیز کو یاد رکھنے کے لیے خود اس کی تصویر کھینچتے ہیں، بعد میں اس کی باریک تفصیلات یاد رکھنے کے معاملے میں وہ ان لوگوں کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں جنہوں نے تصویر نہیں بنائی ہوتی۔ معروف سائنسی جریدے ’میموری اینڈ کاگنیشن‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین نے اس عمل کو ’فوٹو-ٹیکنگ امپیئرمنٹ ایفیکٹ‘ (Photo-Taking Impairment Effect) کا نام دیا ہے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ صوفیہ فیبریزیو کے مطابق لوگ کسی واقعے یا معلومات کی تفصیلی معلومات زیادہ آسانی سے بھول جاتے ہیں اگر وہ بعد میں اپنے فون میں محفوظ کی گئی تصاویر کا دوبارہ جائزہ نہ لیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں ہر اسمارٹ فون صارف کی گیلری میں ہزاروں تصاویر محفوظ ہوتی ہیں جن میں روزانہ کی بنیاد پر مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اگرچہ بعد میں تصاویر دیکھنا یادداشت کو تازہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن صرف تصویر کھینچ کر اسے کیمرہ رول میں چھوڑ دینا اور دوبارہ نہ دیکھنا دماغی یادداشت کو بہتر بنانے کی بجائے اسے سست کرنے کا سبب بنتا ہے۔