LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

فون سے اسکرین شاٹ محفوظ کرنا یادداشت کمزور کر سکتا ہے: تحقیق

Web Desk

19 August 2026

موبائل فون سے کسی اہم لمحے کی تصویر بنانا یا سکرین شاٹ محفوظ کرنا بظاہر چیزوں کو یاد رکھنے میں مددگار معلوم ہوتا ہے، تاہم ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایسا کرنے سے انسانی دماغ کی معلومات کو یاد رکھنے کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔

امریکا کی بِنگہیمٹن یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات سے وابستہ محققین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق، جو افراد کسی چیز کو یاد رکھنے کے لیے خود اس کی تصویر کھینچتے ہیں، بعد میں اس کی باریک تفصیلات یاد رکھنے کے معاملے میں وہ ان لوگوں کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں جنہوں نے تصویر نہیں بنائی ہوتی۔ معروف سائنسی جریدے ’میموری اینڈ کاگنیشن‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین نے اس عمل کو ’فوٹو-ٹیکنگ امپیئرمنٹ ایفیکٹ‘ (Photo-Taking Impairment Effect) کا نام دیا ہے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ صوفیہ فیبریزیو کے مطابق لوگ کسی واقعے یا معلومات کی تفصیلی معلومات زیادہ آسانی سے بھول جاتے ہیں اگر وہ بعد میں اپنے فون میں محفوظ کی گئی تصاویر کا دوبارہ جائزہ نہ لیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں ہر اسمارٹ فون صارف کی گیلری میں ہزاروں تصاویر محفوظ ہوتی ہیں جن میں روزانہ کی بنیاد پر مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اگرچہ بعد میں تصاویر دیکھنا یادداشت کو تازہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن صرف تصویر کھینچ کر اسے کیمرہ رول میں چھوڑ دینا اور دوبارہ نہ دیکھنا دماغی یادداشت کو بہتر بنانے کی بجائے اسے سست کرنے کا سبب بنتا ہے۔