LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برطانوی ادارے کا پاکستان کے ٹرانسمیشن سیکٹر میں سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی وزیراعظم سے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات، پولیو کے خاتمے، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر گفتگو وزیر خزانہ سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے سی سی اے گلوبل کی ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو قطر سے 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر جہاز پورٹ قاسم پہنچ گیا الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ مشرقی چین میں مال بردار جہاز میں خوفناک آتشزدگی، 20 افراد ہلاک آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ

تیز رفتار ورزش دل اور میٹابولک صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند قرار

Web Desk

20 August 2026

واشنگٹن: طبی ماہرین اور سائنس دانوں کی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مختصر دورانیے کی زیادہ شدت والی ورزشیں (High-Intensity Sprint Exercises) دل اور میٹابولک نظام کو صحت مند رکھنے میں درمیانی شدت کی روایتی ورزشوں کی نسبت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

معروف طبی جریدے ‘سیل رپورٹس میڈیسن’ (Cell Reports Medicine) میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں محققین نے کارڈیو میٹابولک صحت (Cardiometabolic Health) پر ورزش کے اثرات کا جائزہ لیا۔ کارڈیو میٹابولک صحت سے مراد دل، خون کی شریانوں اور میٹابولزم کے اپسی تعلق کی کارکردگی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب خون کی شریانیں جسم کے تمام اعضا تک آکسیجن کی فراہمی بہتر کرتی ہیں، تو خلیوں کے مائٹوکانڈریا (Mitochondria) توانائی بنانے کے لیے ایندھن کا استعمال زیادہ مؤثر انداز میں کرتے ہیں، جس سے ہارمونز اور بلڈ شوگر کی متوازن فراہمی میں مدد ملتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جن افراد کی کارڈیو میٹابولک صحت متاثر ہوتی ہے، ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس (Type 2 Diabetes)، گردوں کے دائمی امراض اور فیٹی لیور (جگر کی چربی) جیسے پیچیدہ مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم، سگریٹ نوشی سے پرہیز، متوازن غذا، معیاری نیند اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ روزمرہ ورزش سے اس خطرے کو ٹالا جا سکتا ہے۔

سائنس دانوں نے مطالعے کے دوران دیکھا کہ درمیانی شدت کی مسلسل ورزشوں (مثلاً مسلسل رفتار سے سائیکل چلانا) کے مقابلے میں مختصر وقفوں کی تیز اسپرنٹ (Sprint Interval Training) سے دل اور میٹابولزم کی کارکردگی میں تیزی سے مثبت تبدیلیاں آئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم وقت میں زیادہ شدت کے ساتھ کی جانے والی یہ ورزشیں خون کی شریانوں کو طاقتور بنانے اور میٹابولک امراض سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔