LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنا ختم نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمان

لاہور کے میو ہسپتال سے لاکھوں روپے کی قیمتی ادویات چوری

Web Desk

18 June 2026

صوبائی دارالحکومت لاہور کے سب سے بڑے اور معروف میو ہسپتال سے ‘وزیراعلیٰ پنجاب سٹروک پروگرام’ کے تحت فالج کے غریب مریضوں کے لیے مختص لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی اور زندگی بچانے والے انجکشنز چوری ہونے کا افسوسناک انکشاف ہوا ہے۔ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے ٹی پی اے (tPA – Tissue Plasminogen Activator) نامی انجکشنز غائب کیے گئے، جن کی کل مالیت 15 لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔

 حکومتِ پنجاب کے اس فلیگ شپ پروگرام کا بنیادی مقصد فالج (Stroke) کے حملے کا شکار ہونے والے غریب مریضوں کو بروقت اور بالکل مفت مہنگے ٹیکے لگانا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق، فالج کا اٹیک ہونے کے ابتدائی چند گھنٹوں کے اندر اگر یہ مخصوص ڈوز (ٹیکا) مریض کو لگ جائے تو اس کی نہ صرف جان بچائی جا سکتی ہے، بلکہ اسے عمر بھر کی جسمانی معذوری اور فالج کے مستقل اثرات سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم، ہسپتال کے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے یہ قیمتی ٹیکے غائب کر کے غریب مریضوں کو موت اور معذوری کے منہ میں دھکیل دیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ لاکھوں روپے مالیت کے ان چوری ہونے والے انجکشنز کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگا سکی کہ یہ مارکیٹ میں کس کو بیچے گئے یا کہاں منتقل کیے گئے۔

ایم ایس (Medical Superintendent) میو ہسپتال نے میڈیا کو اس چوری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انتظامیہ اس تزویراتی اسکینڈل پر خاموش نہیں بیٹھی اور سخت ترین تادیبی اقدامات شروع کر دیے ہیں

ایم ایس کے مطابق، ہسپتال کی ابتدائی اندرونی تحقیق میں یہ بات مکمل طور پر ثابت ہو گئی ہے کہ ایمرجنسی وارڈ سے انجکشنز غائب کیے گئے ہیں۔انجکشنز کی گمشدگی ثابت ہونے پر ایمرجنسی وارڈ کے 5 ڈیٹا انٹری آپریٹرز اور ڈسپنسرز کے خلاف فوری طور پر سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ایم ایس کا مزید کہنا تھا کہ ملوث پائے جانے والے تمام متعلقہ ملازمین کے خلاف پیڈا ایکٹ (PEEDA Act) کے تحت باقاعدہ محکمانہ انکوائری کی جا رہی ہے، اور جرم میں برابر کے شریک ملازمین کو نوکریوں سے برطرفی سمیت سخت ترین تادیبی اور فوجداری سزا دلائی جائے گی۔

عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ غریبوں کے لیے مختص ادویات چوری کرنے والے اس مافیا کے خلاف فوری جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تاکہ ہسپتالوں کے اندر ادویات کی اس تزویراتی چوری کا مستقل سدِباب ہو سکے۔