LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنا ختم نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمان

یونیورسل ہیلتھ کوریج کے تحت اب شہری نجی اسپتالوں میں مفت علاج کروا سکتے ہیں، مصطفیٰ کمال

Web Desk

17 January 2026

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج پروگرام کے تحت گلگت بلتستان، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر کے شہری نجی اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے علاقے جیکب لائن صدر میں دوسرے ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے خوشی کا موقع ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر انسانیت کی خدمت کا موقع ملا۔

وفاقی وزیر صحت نے انسانیت کی خدمت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایک حدیث کا حوالہ دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق سے محبت کرتا ہے اور کسی ضرورت مند کی تکلیف کم کرنا بڑے اجر کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت صحت کوئی عام سرکاری محکمہ نہیں بلکہ اللہ کی مخلوق کی تکالیف کم کرنے کے مشن پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کا ہیلتھ کیئر نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور کورونا وبا نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ایک وقت میں بڑی تعداد میں لوگ بیمار ہو جائیں تو ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہوتے ہیں۔

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں بغیر کسی وبا کے بھی ہر سال لاکھوں افراد بیمار ہو رہے ہیں۔ ہر سال تقریباً 61 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں سے 4 لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی ایک بھی خوراک نہیں ملتی جبکہ لاکھوں بچے صرف ایک خوراک تک محدود رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کیئر کا مطلب صرف مریضوں کا علاج نہیں بلکہ بیماریوں سے بچاؤ ہے اور یہ ذمہ داری صرف وزیر صحت کی نہیں بلکہ یو سی کونسلر سے لے کر پورے نظام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔