LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا، ایران نے ترکیہ اور سعودیہ کو آگاہ کر دیا پیرو میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، سفر کرنے والے تمام 13 افراد ہلاک ایران کا خلیجی ممالک کو امریکا اور اسرائیل کی سہولت کاری پر سخت انتباہ مزید جنگی جہاز نہ ملے تو امریکا یا اسرائیل کے دفاع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: امریکی جنرل نے خبردار کردیا امریکی ویزا بانڈ پروگرام کے حوالے سے اہم فیصلہ میں ایرانی کرنسی کو تباہ کر رہا ہوں، صدر ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر پیغام صدر پزشکیان کا ایرانی قوم کو جنگ کے دوران ثابت قدم رہنے پر خراجِ تحسین محسن نقوی کے خیالات سے کم و بیش اتفاق، اصلاحات کا فورم پارلیمنٹ ہے: خواجہ آصف شکارپور کی قومی شاہراہ پر ہولناک حادثہ، 2 نوجوان جاں بحق، ٹینکر ڈرائیور گرفتار آزاد کشمیر میں حکومت سازی : ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا تیسرا مذاکراتی دور مکمل شکارپور میں ٹول ٹیکس تنازع پر بس ڈرائیور نے ملازم کو کچل دیا ہاکی ٹیسٹ سیریز: گرین شرٹس نے جنوبی کوریا کو مسلسل دوسری بار شکست دے دی نواز شریف پر دھاندلی کا الزام لگاؤ گے تو تاریخ بھی یاد رکھنی ہو گی: رانا ثنا اللہ حمزہ شہباز اہل خانہ کے ساتھ نجی دورے پر یورپ روانہ ہوں گے آزاد کشمیر انتخابات: چیف الیکشن کمشنر کا ووٹرز کے نام پیغام جاری

’مجھے پاور نہیں، کام کی آزادی چاہیے‘: سابق کپتان یونس خان کا پاکستان کرکٹ میں واپسی اور کھلاڑیوں کے کردار پر اہم بیان

Web Desk

1 August 2026

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق نامور کپتان اور اسٹار بیٹر یونس خان نے کہا ہے کہ انہیں کسی طاقت یا بڑی پاور کی خواہش نہیں ہے اور نہ ہی وہ دنیا کا مالک بننا چاہتے ہیں، بلکہ ان کے لیے کسی بھی عہدے پر کام کی مکمل آزادی اور بہترین نتائج تحویل میں دینا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

سابق کپتان نے چیئرمین پی سی بی کے ساتھ ممکنہ کام کرنے کے حوالے سے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ یہی مؤقف اپنایا ہے کہ اگر انہیں بورڈ میں کوئی کردار دیا جائے تو اس کے لیے کام کرنے کا پورا موقع اور آزادی بھی فراہم کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی معاوضے یا پیکج کی بات ہوتی ہے تو وہ ہمیشہ ٹیم کے سب سے کمزور پوزیشن والے فرد کے حقوق اور پیکج کی بات کرتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ میں ٹیم کی بحالی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کی ڈوبتی ہوئی شاق کو بچانے اور واپسی کو ممکن بنانے کے لیے موجودہ کھلاڑیوں کو خود آگے بڑھ کر ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ اپنے دور کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ 2003ء کے ورلڈ کپ کے بعد بھی جب سینئر کھلاڑی ٹیم سے رخصت ہوئے تھے تو انہوں نے اور دیگر جونیئرز نے پوری ذمہ داری اٹھائی تھی۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر کھلاڑی بڑی سوچ اپنائیں گے تو اس کے نتائج بھی یقیناً بڑے اور مثبت حاصل ہوں گے۔