LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی چین نے بچوں کے تحفظ کیلئے مؤثر طریقہ تنازعات اور تشدد کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا امریکا کیساتھ معاہدہ: روس نے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا

افریقا میں ایبولا کا خوفناک پھیلاؤ، کانگو میں 131 ہلاکتیں، ڈبلیو ایچ او نے عالمی ایمرجنسی نافذ کردی

Web Desk

19 May 2026

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیدروس ایدہانوم نے وسطی افریقا بالخصوص جمہوریہ کانگو میں تیزی سے پھیلنے والی ایبولا کی نئی لہر پر شدید ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دنیا کے لیے ایک سنگین اور غیر معمولی خطرہ قرار دیا ہے۔ جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ ایبولا کی موجودہ وبا کی رفتار، پھیلاؤ اور ہلاکت خیزی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، جس کے لیے فوری عالمی یکجہتی اور امداد کی ضرورت ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، کانگو میں ایبولا وائرس کے باعث صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے، جہاں اب تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 131 ہو چکی ہے جبکہ 513 سے زائد مشتبہ کیسز باقاعدہ رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔ یہ مہلک وائرس اب پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی سرایت کر چکا ہے، جہاں اب تک ایک ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تاہم، کانگو کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کے حالیہ اعداد و شمار ابھی ابتدائی تخمینوں پر مبنی ہیں، اور لیبارٹریوں میں تحقیقات کا عمل جاری ہے تاکہ قطعی طور پر یہ تصدیق کی جا سکے کہ تمام اموات صرف اور صرف ایبولا وائرس کی وجہ سے ہی ہوئیں یا ان کے پیچھے کوئی اور طبی وجہ بھی شامل ہے۔

طبی دنیا کے لیے سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ اس مرتبہ ایبولا کا ایک بالکل نیا اور تبدیل شدہ ورژن (Mutation) سامنے آیا ہے، جس کے اثرات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہلک ہیں۔ محققین کے مطابق، اس نئے ورژن کے خلاف اس وقت دنیا میں نہ تو کوئی مؤثر ویکسین موجود ہے اور نہ ہی اس کا کوئی متبادل یا مکمل علاج دستیاب ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران یہ موذی وائرس برعظم افریقا میں 15 ہزار سے زائد انسانوں کی جانیں لے چکا ہے۔

حالیہ وبا کا بنیادی مرکز کانگو کا شمال مشرقی صوبہ “ایتوری” بتایا جا رہا ہے، جو جغرافیائی طور پر جنوبی سوڈان اور یوگنڈا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں واقع سونے کی وسیع کانیں اور سرحدوں پر عوام کی مسلسل بے لگام نقل و حرکت اس وائرس کے ایک سے دوسرے علاقے میں منتقلی کی سب سے بڑی وجہ بن رہی ہے۔

دوسری جانب، اس وبا کے بین الاقوامی اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جرمنی نے ہنگامی بنیادوں پر اعلان کیا ہے کہ کانگو میں فرائض کی انجام دہی کے دوران ایبولا وائرس کا شکار ہونے والے ایک امریکی شہری کو فوری طور پر خصوصی طبی انتظام کے تحت علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا جائے گا۔ امریکی اور جرمن حکام کے مطابق، متاثرہ شخص کو ائیر ایمبولینس کے ذریعے منتقل کر کے اعلیٰ درجے کے قرنطینہ مرکز میں رکھا جائے گا تاکہ وائرس کو یورپ میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔