افریقا میں ایبولا کا خوفناک پھیلاؤ، کانگو میں 131 ہلاکتیں، ڈبلیو ایچ او نے عالمی ایمرجنسی نافذ کردی
Web Desk
19 May 2026
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیدروس ایدہانوم نے وسطی افریقا بالخصوص جمہوریہ کانگو میں تیزی سے پھیلنے والی ایبولا کی نئی لہر پر شدید ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دنیا کے لیے ایک سنگین اور غیر معمولی خطرہ قرار دیا ہے۔ جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ ایبولا کی موجودہ وبا کی رفتار، پھیلاؤ اور ہلاکت خیزی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، جس کے لیے فوری عالمی یکجہتی اور امداد کی ضرورت ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، کانگو میں ایبولا وائرس کے باعث صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے، جہاں اب تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 131 ہو چکی ہے جبکہ 513 سے زائد مشتبہ کیسز باقاعدہ رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔ یہ مہلک وائرس اب پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی سرایت کر چکا ہے، جہاں اب تک ایک ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تاہم، کانگو کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کے حالیہ اعداد و شمار ابھی ابتدائی تخمینوں پر مبنی ہیں، اور لیبارٹریوں میں تحقیقات کا عمل جاری ہے تاکہ قطعی طور پر یہ تصدیق کی جا سکے کہ تمام اموات صرف اور صرف ایبولا وائرس کی وجہ سے ہی ہوئیں یا ان کے پیچھے کوئی اور طبی وجہ بھی شامل ہے۔
طبی دنیا کے لیے سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ اس مرتبہ ایبولا کا ایک بالکل نیا اور تبدیل شدہ ورژن (Mutation) سامنے آیا ہے، جس کے اثرات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہلک ہیں۔ محققین کے مطابق، اس نئے ورژن کے خلاف اس وقت دنیا میں نہ تو کوئی مؤثر ویکسین موجود ہے اور نہ ہی اس کا کوئی متبادل یا مکمل علاج دستیاب ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران یہ موذی وائرس برعظم افریقا میں 15 ہزار سے زائد انسانوں کی جانیں لے چکا ہے۔
حالیہ وبا کا بنیادی مرکز کانگو کا شمال مشرقی صوبہ “ایتوری” بتایا جا رہا ہے، جو جغرافیائی طور پر جنوبی سوڈان اور یوگنڈا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں واقع سونے کی وسیع کانیں اور سرحدوں پر عوام کی مسلسل بے لگام نقل و حرکت اس وائرس کے ایک سے دوسرے علاقے میں منتقلی کی سب سے بڑی وجہ بن رہی ہے۔
دوسری جانب، اس وبا کے بین الاقوامی اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جرمنی نے ہنگامی بنیادوں پر اعلان کیا ہے کہ کانگو میں فرائض کی انجام دہی کے دوران ایبولا وائرس کا شکار ہونے والے ایک امریکی شہری کو فوری طور پر خصوصی طبی انتظام کے تحت علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا جائے گا۔ امریکی اور جرمن حکام کے مطابق، متاثرہ شخص کو ائیر ایمبولینس کے ذریعے منتقل کر کے اعلیٰ درجے کے قرنطینہ مرکز میں رکھا جائے گا تاکہ وائرس کو یورپ میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
اسلام آباد: شدید بارشوں اور سیلاب سے متعدی امراض پھیلنے کا خدشہ
17 June 2026
سندھ میں خسرہ کی وبا شدت اختیار کرگئی، 53 بچے جاں بحق
16 June 2026
وزن اٹھانا انسانوں کیلئے کتنا مفید ہے؟
16 June 2026
سائنس دانوں نے پہلی بار زندہ بافتوں میں مائیکرو پلاسٹکس کا سراغ لگا لیا
16 June 2026
ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف
16 June 2026
مائیگرین کی دوا حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق
15 June 2026
شہر قائد میں ایک اور ایم پاکس کا متاثرہ مریض رپورٹ، تعداد 10 ہو گئی
15 June 2026
چینی غذا سے مکمل نکال دینا معدے اور جسمانی صحت کیلئے مضر ہوسکتا ہے
14 June 2026