LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عراقی ملیشیا گروپوں کی اردن پر حملے کی منصوبہ بندی، اردن کی جوابی کارروائی کی وارننگ ایرانی انفراسٹرکچر پر حملوں کا نتیجہ امریکی حاکمانہ نظام کی تباہی ہوگی، محمد مخبر محسن نقوی صاحب سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں، خواجہ آصف امریکی حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا، ایران نے ترکیہ اور سعودیہ کو آگاہ کر دیا پیرو میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، سفر کرنے والے تمام 13 افراد ہلاک ایران کا خلیجی ممالک کو امریکا اور اسرائیل کی سہولت کاری پر سخت انتباہ مزید جنگی جہاز نہ ملے تو امریکا یا اسرائیل کے دفاع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: امریکی جنرل نے خبردار کردیا امریکی ویزا بانڈ پروگرام کے حوالے سے اہم فیصلہ میں ایرانی کرنسی کو تباہ کر رہا ہوں، صدر ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر پیغام صدر پزشکیان کا ایرانی قوم کو جنگ کے دوران ثابت قدم رہنے پر خراجِ تحسین محسن نقوی کے خیالات سے کم و بیش اتفاق، اصلاحات کا فورم پارلیمنٹ ہے: خواجہ آصف شکارپور کی قومی شاہراہ پر ہولناک حادثہ، 2 نوجوان جاں بحق، ٹینکر ڈرائیور گرفتار آزاد کشمیر میں حکومت سازی : ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا تیسرا مذاکراتی دور مکمل شکارپور میں ٹول ٹیکس تنازع پر بس ڈرائیور نے ملازم کو کچل دیا ہاکی ٹیسٹ سیریز: گرین شرٹس نے جنوبی کوریا کو مسلسل دوسری بار شکست دے دی

محسن نقوی صاحب سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں، خواجہ آصف

Web Desk

2 August 2026

وفاقی وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملک میں سسٹم کی تبدیلی اور اصلاحات کا آغاز اپنی ہی وزارت اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے ڈی جی آئی ایس پی آر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کے 13 اہم نکات کا ذکر کیا تھا۔ ان میں سے صرف ایک پوائنٹ پر عملدرآمد ہماری مسلح افواج کی ذمہ داری تھی، جس پر پاک فوج کی جانب سے جانوں کی عظیم قربانیاں دے کر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ تاہم، باقی 12 نکات وزارت داخلہ کے زیر انتظام آتے تھے، جن پر تاحال مکمل اور مؤثر عملدرآمد دیکھنے میں نہیں آیا۔

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ اگر نظام کو مضبوط بنانا ہے اور آئینی و بنیادی تبدیلیاں لانی ہیں تو اس کا حقیقی فورم پارلیمنٹ اور وفاقی کابینہ ہے۔ محسن نقوی خود پارلیمنٹ کے رکن اور کابینہ کے اہم عہدیدار ہیں، اس لیے وہ ان معاملات کو تجارتی تقاریب کے بجائے پارلیمانی و آئینی فورمز پر بحث کے لیے لائیں تاکہ تبدیلی ایک قانونی اور آئینی عمل کے ذریعے ممکن ہو سکے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ محسن نقوی گزشتـہ ساڑھے تین برسوں سے اقتدار کے انتہائی طاقتور عہدوں پر فائز ہیں اور وہ خود ایک “پاور ہاؤس” کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر وہ چاہتے تو اس عرصے کے دوران نظام اصلاحات کے لیے عملی اقدام کر سکتے تھے، تاہم “دیر آید درست آید”۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا سیاسی و انتظامی ارتقائی عمل دہائیوں سے شخصی اور گروہی مفادات کے تابع رہا ہے، جسے اب آزادی اور اداروں کی مضبوطی کی ضرورت ہے۔