LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قطر میں منجمد 12 ارب ڈالرز میں نصف رقم جلد ہمارے حوالے کردی جائے گی؛ ایرانی صدر مالی سال کے آخری ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب 48 کروڑ ڈالر سے زائد ہوگئے جنوبی لبنان سے انخلا حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے سے مشروط ہے: اسرائیل ایران نے قطر میں امریکا سے مجوزہ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی کہوٹہ میں قیدیوں کی وین سے 14 فرار، 4 دوبارہ گرفتار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن، 6 وکلا کی فہرست جیل حکام کو جمع سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر کا آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی پر زور پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ، کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: حکومتِ پاکستان افغان ناظم الامور کو کراچی حملے کے حوالے سے ڈیمارش تھمایا گیا۔ ترجمان سپریم کورٹ آزاد کشمیرکا پی ٹی آئی ک رجسٹریشن کا عبوری فیصلہ معطل کر دیا عوام پر رعب جھاڑنے والوں کی پیرا فورس میں کوئی جگہ نہیں: مریم نواز پنجاب میں یونین کونسلز کی حدبندی کا نظرثانی شدہ شیڈول جاری سانحہ گل پلازہ: چالان پراسیکیوشن کو جمع، مارکیٹ یونین عہدیداران ملزم نامزد کراچی سمیت ملک بھر کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان پنڈی کہوٹہ روڈ پر اسلام آباد پولیس نے اپوزیشن قیادت کو کشمیر جانے سے روک دیا

امریکا اور میکسیکو نے مکھیوں کی فوج تیار کر لی

Web Desk

29 June 2026

امریکہ اور اس کے پڑوسی ملک میکسیکو نے مویشیوں اور دیگر جانوروں کے دشمن ایک خطرناک گوشت خور پیراسائٹ کے خاتمے کے لیے مکھیوں کی ایک تزویراتی فوج تیار کر لی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، دونوں ممالک نے مل کر ان موذی کیڑوں کی افزائش نسل کو روکنے کے لیے ایک منفرد اور سائنسی حیاتیاتی مشن شروع کیا ہے۔

اس مشترکہ تزویراتی حکمتِ عملی کے تحت دونوں ممالک نے گوئٹے مالا کی سرحد کے قریب واقع میکسیکن علاقے میٹاپا ڈی ڈومنگیز میں جراثیم سے پاک مکھیاں پیدا کرنے والے ایک جدید ترین بائیو ٹیکنالوجی پلانٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس تاریخی افتتاحی تقریب میں میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام اور امریکی وزیرِ زراعت بروک رولنز نے خصوصی شرکت کر کے دو طرفہ زرعی و ماحولیاتی تعاون کا اعادہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق، قریباً 50 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے قائم کیا گیا یہ پلانٹ دونوں ممالک کا ایک انتہائی اہم مشترکہ منصوبہ ہے، جہاں جدید سائنسی عمل کے ذریعے ہر ہفتے 10 کروڑ (100 ملین) جراثیم سے پاک مکھیاں تیار کی جائیں گی۔ ان مکھیوں کو سرحدی اور مخصوص متاثرہ علاقوں میں فضا سے چھوڑا جائے گا، جہاں یہ جنگلی مکھیوں کے ساتھ ملاپ کریں گی جس سے ان کی افزائشِ نسل کا مروجہ قدرتی چکر ٹوٹ جائے گا۔ اس بائیو کنٹرول طریقہ کار کے باعث جانوروں میں خطرناک پیراسائٹ پھیلانے والے کیڑوں کی آبادی کا مؤثر اور مستقل خاتمہ ممکن ہو سکے گا، جو دونوں ممالک کے لائیو سٹاک اور زرعی شعبے کے لیے ایک بڑی تزویراتی کامیابی ہے۔