LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی صدر زرداری سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی

الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا بھرپور استعمال کس بیماری کے خطرات بڑھا سکتا ہے؟

Web Desk

5 June 2026

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ بھرپور مقدار میں الٹرا پروسیسڈ غذائیں کھانا ڈیمینشیا کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ کے محققین کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ روزانہ ایک کلو سے زیادہ الٹرا پروسیسڈ غذائیں کھانے والے افراد میں ڈیمنشیا (یادداشت اور دماغی صلاحیتوں کو متاثر کرنے والی بیماری) کا خطرہ 58 فی صد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ ذہنی کمزوری کا خطرہ 46 فی صد زیادہ ہو جاتا ہے۔

 

مزید دریافت کریں
اشتہار کی جگہ
خبروں کی سبسکرپشن
Newspapers

 

ڈیمنشیا طویل عرصے سے امریکا میں ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، اور ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں یہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ یہ دائمی بیماری انسان کی یادداشت، شخصیت اور رویّے کو متاثر کرتی ہے، جس کے تباہ کن اثرات نہ صرف مریض بلکہ اس کے اہلِ خانہ پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

 

 

 

 

 

اس وقت امریکا میں 72 لاکھ سے زائد افراد ڈیمینشیا کی سب سے عام قسم الزائمرز مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

 

الزائمرز ایسوسی ایشن کے مطابق 2050 تک یہ تعداد تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ امریکا اس صورتحال تک کیسے پہنچا اور مستقبل میں ماہرین کو ایسے اقدامات تجویز کرنے میں رہنمائی فراہم کر سکتی ہے جو اس رجحان کو پلٹنے میں مددگار ثابت ہوں۔

نیشنل انسٹیٹیوٹس آف ہیلتھ کے مطابق گزشتہ 50 برسوں کے دوران امریکی خوراک کا تقریباً 70 فی صد حصہ الٹرا پروسیسڈ غذا پر مشتمل ہو چکا ہے۔ اس دوران فوڈ کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کے ذائقے، رنگت اور شیلف لائف میں تبدیلیاں کر کے انہیں زیادہ پُرکشش بنایا ہے۔

یونیورسٹی آف کینسز کے محققین کے مطابق یہ مصنوعات صارفین کے لیے جان بوجھ کر زیادہ ’Hyperpalatable‘ یعنی حد سے زیادہ لذیذ بنائی گئیں، جن میں نمک، چکنائی اور شکر کے ایسے امتزاج شامل کیے گئے جو لوگوں کو بار بار کھانے پر مائل کرتے ہیں۔