LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ن لیگ نئے صوبوں پر جلد فیصلہ کر کے اپنا مؤقف سامنے لائے گی: رانا ثنا اللہ حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان اسحاق ڈار القدس سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن روانہ آبنائے ہرمز معاہدے کی راہ ہموار، ایران کی عمان سے مثبت مذاکرات کی تصدیق وزیراعظم شہباز شریف 6 اور 7 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 7 ماہ میں 18 لاکھ سے زائد سمز بلاک روس میں کرپٹو کرنسی کے لیے جامع قانون منظور، صدر پوتن نے دستخط کر دیے فیلڈ مارشل کا این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ، مون سون آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ نیب کی 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 2.45 ٹریلین روپے ریکارڈ ریکوری آبنائے ہرمز پر مثبت پیش رفت، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ایران کو آخری موقع دے دیا، آبنائے ہرمز کل مکمل طور پر کھل جائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ آمدو رفت بحال، معاہدہ جلد طے پا جائے گا: اسکاٹ بیسنٹ کویت میں دھماکوں اور عمان کے قریب کارگو جہاز پر حملے کی اطلاعات روسی اور قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل تعلیمی انقلاب، 2 برس میں شرح خواندگی 35 فیصد بڑھانے کا ہدف

ذہنی تناؤ گنج پن کا شکار کیسے بنا دیتا ہے؟

Web Desk

9 March 2026

عمر بڑھنے کے ساتھ بالوں کا کم ہونا ایک قدرتی عمل ہے اور مردوں میں گنج پن کا امکان خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق شدید یا طویل تناؤ بھی بالوں کے تیزی سے گرنے کی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے۔

امریکا کے طبی ادارے مایو کلینک کے مطابق ذہنی دباؤ کا شکار افراد میں بالوں کے گرنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے جبکہ نئے بالوں کی نشوونما سست پڑ جاتی ہے۔ یہ مسئلہ مردوں اور خواتین دونوں کو متاثر کر سکتا ہے اور اکثر اوقات عارضی ہوتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں یہ گنج پن کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب جسم میں تناؤ کے ہارمون کورٹیسول کی سطح بڑھ جاتی ہے تو بالوں کی جڑیں غیر متحرک ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں نئے بال نہیں اگتے جبکہ موجودہ بال ٹوٹتے رہتے ہیں۔ 2021 میں چوہوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں اس عمل کے حیاتیاتی نظام کو واضح کیا گیا تھا۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ طویل تناؤ مدافعتی نظام کو زیادہ متحرک کر دیتا ہے جس سے بعض افراد میں الوپیشیا (Alopecia) جیسی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے، جس میں سر کے مخصوص حصوں سے بال اڑنے لگتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق تناؤ کے نتیجے میں بالوں سے محرومی کی تین بڑی اقسام سامنے آ سکتی ہیں۔ پہلی ٹیلوجن ایفلوویئم (Telogen effluvium) ہے جس میں بالوں کی جڑیں وقتی طور پر غیر فعال ہو جاتی ہیں اور بال بڑی تعداد میں جھڑنے لگتے ہیں۔ دوسری قسم الوپیشیا ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام بالوں کی جڑوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ تیسری حالت ٹرائیکوٹیلومینیا (Trichotillomania) ہے جس میں شدید تناؤ کے باعث بعض افراد اپنے ہی بال کھینچ کر توڑنے لگتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تناؤ کو کم کر لیا جائے تو اکثر صورتوں میں بالوں کی نشوونما دوبارہ ممکن ہو جاتی ہے۔ تاہم کسی بھی مسئلے کی صورت میں ماہر معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔